شاعری

پھول کی رنگت میں نے دیکھی درد کی رنگت دیکھے کون

پھول کی رنگت میں نے دیکھی درد کی رنگت دیکھے کون پیار کا گیت سنا ہے سب نے دھن تھی کیسی سوچے کون دھوپ نے تن من پھونک دیا تو سائے میں آ بیٹھا تھا شاخ شاخ میں آگ چھپی ہے پیڑ کے نیچے بیٹھے کون اپنے درد کو گرد سمجھ کر منزل منزل چھوڑ دیا آئینے پر دھول جمی ہے آئینے میں دیکھے کون انگ انگ ...

مزید پڑھیے

مچھلیوں کا زنداں ہے مرتبان شیشے کا

مچھلیوں کا زنداں ہے مرتبان شیشے کا دیکھ سات رنگوں میں یہ جہان شیشے کا سانس لے رہے تھے تم ایک ایسی دنیا میں تھی زمین پتھر کی آسمان شیشے کا ایک بنتے جاتے ہیں پھول آشنائی کے چھاؤں دے نہیں سکتا سائبان شیشے کا آنسوؤں کی بارش میں چور چور ہوتا ہے آرزو بناتی ہے جو مکان شیشے کا زندگی ...

مزید پڑھیے

میں یوں تو نہیں ہے کہ محبت میں نہیں تھا

میں یوں تو نہیں ہے کہ محبت میں نہیں تھا البتہ کبھی اتنی مصیبت میں نہیں تھا اسباب تو پیدا بھی ہوئے تھے مگر اب کے اس شوخ سے ملنا مری قسمت میں نہیں تھا طے میں نے کیا دن کا سفر جس کی ہوس میں دیکھا تو وہی رات کی دعوت میں نہیں تھا اک لہر تھی غائب تھی جو طوفان‌ ہوا سے اک لفظ تھا جو خط کی ...

مزید پڑھیے

ترس رہا ہوں قرار دل و نظر کے لئے

ترس رہا ہوں قرار دل و نظر کے لئے سکوت شب میں دعا جس طرح سحر کے لئے میں خاک راہ گزر ہوں کہ مسند گل ہوں اک اضطراب مسلسل ہے عمر بھر کے لئے شجر کہ جن سے اداسی ٹپکتی رہتی ہے یہ سنگ میل ہیں شاید مری نظر کے لئے جمال دوست کو مشعل بنا لیا میں نے وفا کہ رخت سفر ہے مرے سفر کے لئے ترے خیال کا ...

مزید پڑھیے

سیاہ رات کی ہر دل کشی کو بھول گئے

سیاہ رات کی ہر دل کشی کو بھول گئے دیئے جلا کے ہمیں روشنی کو بھول گئے کسی کلی کے تبسم نے بیکلی دی ہے کلی ہنسی تو ہم اپنی ہنسی کو بھول گئے جہاں میں اور رہ و رسم عاشقی کیا ہے فریب خوردہ تری بے رخی کو بھول گئے یہی ہے شیوۂ اہل وفا زمانے میں کسی کو دل سے لگایا کسی کو بھول گئے ذرا سی ...

مزید پڑھیے

یوں زمانے میں مرا جسم بکھر جائے گا

یوں زمانے میں مرا جسم بکھر جائے گا مرے انجام سے ہر پھول نکھر جائے گا جام خالی ہے صراحی سے لہو بہتا ہے آج کی رات وہ مہتاب کدھر جائے گا سیل گریہ مری آنکھوں سے یہ کہہ جاتا ہے بستیاں روئیں تو دیا بھی اتر جائے گا تو کوئی ابر گہربار سمندر کے لیے دل کے صحرا سے جو چپ چاپ گزر جائے گا آج ...

مزید پڑھیے

اور کیا میرے لیے عرصۂ محشر ہوگا

اور کیا میرے لیے عرصۂ محشر ہوگا میں شجر ہوں گا ترے ہاتھ میں پتھر ہوگا یوں بھی گزریں گی ترے ہجر میں راتیں میری چاند بھی جیسے مرے سینے میں خنجر ہوگا زندگی کیا ہے کئی بار یہ سوچا میں نے خواب سے پہلے کسی خواب کا منظر ہوگا ہاتھ پھیلائے ہوئے شام جہاں آئے گی بند ہوتا ہوا دروازۂ خاور ...

مزید پڑھیے

کسی پرندے کی واپسی کا سفر مری خاک میں ملے گا

کسی پرندے کی واپسی کا سفر مری خاک میں ملے گا میں چپ رہوں گا شجر کی صورت شجر مری خاک میں ملے گا اداس آنکھیں سلگتے چہروں کی مجھ کو آواز دے رہی ہیں کبھی جو آباد رہ چکا ہے وہ گھر مری خاک میں ملے گا لہو کی بارش میں زرد پھولوں کی پتیوں سے لکھا گیا ہوں میں لفظ کا ذائقہ زباں پر اثر مری خاک ...

مزید پڑھیے

اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں

اس نے توڑا جہاں کوئی پیماں مرحلے اور ہو گئے آساں میر ہے کوئی کوئی ہے سلطاں سوچتا ہوں کہاں گیا انساں آندھیوں میں جلا رہے تھے چراغ ہائے وہ لوگ بے سر و ساماں فلسفی فلسفوں میں ڈوب گئے آدمی کا لہو رہا ارزاں ابر بن کر برس ہی جائے گا کھیت سے جب اٹھا غم دہقاں شعلۂ گل ہے زخم دل کی ...

مزید پڑھیے

تنہائی نے پر پھیلائے رات نے اپنی زلفیں

تنہائی نے پر پھیلائے رات نے اپنی زلفیں پلکوں پر ہم تارے لے کر چاند کا رستہ دیکھیں یہ دنیا ہے اس دنیا کا رنگ بدلتا جائے اس پربت سے پاؤں پھسلے جس پربت کو چھو لیں کیسے پیاس بجھاتے دریا ریت کا دریا نکلا لہر لہر میں موج چھپی تھی دھوکے میں تھی آنکھیں جس کو من کا میت بنایا آخر دشمن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5457 سے 5858