شاعری

کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیں

کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیں مگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیں ہزار ہم نے ضبط سے لیا تھا کام کیا کریں کسی کے آنسوؤں نے پھر رلا کے رکھ دیا ہمیں ہماری شہرتیں خراب اس طرح بھی اس نے کیں کہ اپنے آشناؤں سے ملا کے رکھ دیا ہمیں ہمیں اس انجمن میں جانے اس نے کیوں بلا لیا بلا ...

مزید پڑھیے

بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی

بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھی سہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھی جدائیوں کی خلش اس نے بھی نہ ظاہر کی چھپائے اپنے غم و اضطراب میں نے بھی دیئے بجھا کے سر شام سو گیا تھا وہ بتائی سو کے شب ماہتاب میں نے بھی یہی نہیں کہ مجھے اس نے درد ہجر دیا جدائیوں کا دیا ہے جواب میں نے ...

مزید پڑھیے

چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں

چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں در بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیں اپنی مجروح اناؤں کو دلاسے دے کر ہاتھ میں کاسۂ خیرات لیے پھرتے ہیں شہر میں ہم نے سنا ہے کہ ترے شعلہ نوا کچھ سلگتے ہوئے نغمات لیے پھرتے ہیں مختلف اپنی کہانی ہے زمانے بھر سے منفرد ہم غم حالات لیے پھرتے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے

آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے اب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھے رگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے طاری ہے تمناؤں پہ سکرات کا عالم ہر سانس رفاقت کی تمنائی تو اب ہے کل تک مری وحشت سے فقط تم ہی تھے آگاہ ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی تو اب ...

مزید پڑھیے

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو رات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہو یہ تو دیکھو کہ تمہیں لوٹ لیا ہے اس نے اک تبسم پہ خریدار کے گن گاتے ہو اپنی تنہائی پہ نازاں ہو مرے سادہ مزاج اپنے سونے در و دیوار کے گن گاتے ہو اپنے ہی ذہن کی تخلیق پہ اتنے سرشار اپنے افسانوی کردار کے گن گاتے ...

مزید پڑھیے

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں

بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں آ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیں کوئی کھڑکی نہیں کھلتی کسی باغیچے میں سانس لینا بھی ہے دشوار کہیں اور چلیں تو بھی مغموم ہے میں بھی ہوں بہت افسردہ دونوں اس دکھ سے ہیں دو چار کہیں اور چلیں ڈھونڈتے ہیں کوئی سر سبز کشادہ سی فضا وقت کی دھند کے اس ...

مزید پڑھیے

شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پر (ردیف .. ن)

شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پر رات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میں قصر عمر گواہی دے گا کیسے کیسے کرب سہے کیسی کیسی رت گزری ہے ہم پر اتنے سالوں میں دوش خلا سے خاک زمیں پر اترے تو احساس ہوا تارے بانٹنے والے راہی پڑ گئے کن جنجالوں میں لے آئی کس قریۂ شب میں اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5430 سے 5858