شاعری

بدلیں گے حالات کے تیور صبر کرو

بدلیں گے حالات کے تیور صبر کرو معرکہ ہوگا ہر اک سر پر صبر کرو آج گلا اپنا ہے خنجر ان کا ہے اک دن بدلے گا یہ منظر صبر کرو دشمن میرے پیچھے چھپ کر بیٹھا ہے بول اٹھے گا اک اک پتھر صبر کرو حق تو حق ہے آخر غالب آئے گا باطل کا جھک جائے گا سر صبر کرو شافع محشر کی ہے یہ تعلیم ہمیں غصے کو ...

مزید پڑھیے

ابھر رہی ہے کرن صبح ضو فشاں کے لئے

ابھر رہی ہے کرن صبح ضو فشاں کے لئے سنور رہی ہے فضا حسن گلستاں کے لئے مری فسردہ امیدوں کو کر دیا خنداں یہ التفات نظر اک شکستہ جاں کے لئے خدا کے در پہ تو سجدہ کناں ہے اک دنیا مری جبیں ہے فقط تیرے آستاں کے لئے ترے حضور میں آیا تو کھو گیا ایسا زبان کھل نہ سکی عرض داستاں کے لئے انہیں ...

مزید پڑھیے

دل میں روحانی خیالوں کا سفر جاری رہا

دل میں روحانی خیالوں کا سفر جاری رہا تیرگی میں بھی اجالوں کا سفر جاری رہا حادثوں نے حوصلوں کو بارہا روکا مگر پھر بھی تیرے کچھ جیالوں کا سفر جاری رہا ہم تھکن سے چور تھے کروٹ بدل کر سو گئے نیند میں لیکن خیالوں کا سفر جاری رہا وقت کے ہر دور سے لیتے رہے ہیں جو خراج ایسے بھی کچھ با ...

مزید پڑھیے

تھک کے آخر شاعری کرنی پڑی

تھک کے آخر شاعری کرنی پڑی رہبروں کی رہبری کرنی پڑی حضرت آدم کی سادہ بھول سے تا قیامت بندگی کرنی پڑی دوستوں کی دوستی کو دیکھ کر دشمنوں سے دوستی کرنی پڑی دے دیا ہے چاند سورج نے جواب دل جلوں کو روشنی کرنی پڑی جب کسی نے بھی نہ کچھ سمجھا ہمیں یار کو پیغمبری کرنی پڑی

مزید پڑھیے

میری نظروں میں عطا کی ہے تری صورت مجھے

میری نظروں میں عطا کی ہے تری صورت مجھے مل گئی ہے دو جہاں کے حسن کی مورت مجھے تیرے رخ کی روشنی نے مجھ پہ وہ چھڑکا ہے نور وصل ہی اب وصل لگتی ہے تری فرقت مجھے کوئی ایسی کیفیت کو نام کچھ دیتا پھرے عالم الفت نے بخشی ہے نئی عظمت مجھے کوئی کہتا ہے محبت سے ہے توہین حیات اس کے دم سے ہے ...

مزید پڑھیے

مقتل

میرے سینے پہ سر رکھ کے روتی رہی میری پلکوں سے پلکیں بھگوتی رہی میں بھی روتا رہا میرے سینے پہ سر رکھ کے سوتی رہی میں بھی سوتا رہا میری آنکھوں میں کچھ ڈھونڈھتی سی رہی میں بھی دیکھا کیا خامشی کے حجابوں میں ہلچل رہی میں کھڑا پر سکوں بت تڑپتا رہا وقت و حالات پھر درمیاں آ گئے دور ہوتے ...

مزید پڑھیے

سرور

دیکھ کے تجھ کو یہ آتا ہے کہ لکھوں میں غزل سوچتا ہوں میں یہی پھر کہ ضرورت کیا ہے حسن پہ تیرے یہ رعنائی تری شان جو ہے یہ تری زلفوں میں خم جو ہے سراپے کی شبیہ تیرے نینوں کی کجی جو ہے اداؤں پہ عروج سرخیٔ لب کہ جو مذبح ہے تمناؤں کا تیرا جوبن کہ جو شرمندۂ صد فتنہ ہے سکر یہ تیرے حضوری کا ...

مزید پڑھیے

تمہاری زندگی سے جا رہا ہوں

تمہاری زندگی سے جا رہا ہوں سمجھ لو میں خوشی سے جا رہا ہوں وہ آنکھیں دیکھتا ہوں تو لگے ہے میں اپنی آگہی سے جا رہا ہوں ترے چکر میں میری جاں ہوا یوں کہ میں اب سادگی سے جا رہا ہوں میں دھیرے چلنے والا سنگ اس کے بہت ہی رفتگی سے جا رہا ہوں ترے لب چومتے ہی دھیان آیا کہ میں آہستگی سے جا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5419 سے 5858