صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کو
صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کو بلا رہا ہے مرے خوں کا ذائقہ مجھ کو ہنوز صفحۂ ہستی پہ ہوں میں حرف غلط کوئی ہنوز ہے لکھ لکھ کے کاٹتا مجھ کو ہزار چہرہ طلسم گریز پا ہوں میں اسیر کر نہ سکا کوئی آئنا مجھ کو چلا ہی جاؤں میں پرچھائیوں کے دیس کو اور پکارتا رہے کرنوں کا قافلہ مجھ ...