شاعری

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا تجھے بھی اس کہانی میں کہیں کھونا ...

مزید پڑھیے

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا

وہ جو رو رہا تھا وہ ہنس پڑا وہ جو ہنس رہا تھا وہ رو دیا یہاں اک جزیرہ بنا دیا وہاں اک جزیرہ ڈبو دیا یہ بنانے والے کا شوق ہے کہیں ہار ہے کہیں طوق ہے کہیں واہ ہے کہیں آہ ہے کہیں پا لیا کہیں کھو دیا وہ اسیر حسن بیان ہوں میں زبان کا وہ کسان ہوں کہ زمین مجھ کو جہاں دکھی وہیں اک خیال کو ...

مزید پڑھیے

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا

شعور نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاع رنج و ملال دینا کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا حدود میں اپنی رہ کے شاید بچا سکوں میں وجود اپنا میں ایک قطرہ ہوں مجھ کو دریا کے راستے پر نہ ڈال دینا اگر خلا میں پہنچ گیا تو پلٹ کے واپس نہ آ سکوں گا تم اپنی حد کشش سے اونچا نہ ...

مزید پڑھیے

ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے

ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے ہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہے نادیدہ منزلوں کی طرف ہم تمام عمر حاجت کے قافلوں کو لیے بھاگتے رہے وہ خوف تھا کہ درد کا احساس ہی نہ تھا تلووں میں آبلوں کو لیے بھاگتے رہے فرصت کہاں تھی دفن کریں میتوں کو ہم بس مردہ حوصلوں کو لیے بھاگتے رہے چھوڑا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے

مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے وہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھے میرے پروں میں میری زمیں باندھنے کے بعد وہ اپنی کہکشاں میں بلاتا رہا مجھے ہر رات آنسوؤں سے بھگویا مرا بدن ہر صبح دھوپ دے کے سکھاتا رہا مجھے سگریٹ پیتا میں بھی لبوں سے لگا رہا وہ بھی دھواں بنا کے اڑاتا رہا ...

مزید پڑھیے

جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوں

جو اصل ہے میری وہی پوشاک پہن لوں سب کھیل ہوئے ختم چلوں خاک پہن لوں ہو جاؤں گا اس منظر گلشن میں کہیں ضم گل رنگ کوئی کرتا صد چاک پہن لوں غم ناکوں میں ہنستا ہوا اچھا نہ لگوں گا ٹھہرو میں کوئی چہرۂ غم ناک پہن لوں اس نرم بیانی کو مری کون سنے گا آواز پہ اک لہجۂ سفاک پہن لوں جانا ہے ...

مزید پڑھیے

شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑا

شکریہ بیچ سفر آپ نے تنہا چھوڑا اس طرح آپ نے مجھ سے مرا رشتہ جوڑا شدت طیش سے کانپ اٹھی ہیں ساری شاخیں جب بھی گلچیں نے کسی شاخ سے گل کو توڑا اپنے اندر سے وہ اک دم نہ نکالے گا مجھے مجھ کو آنکھوں سے وہ ٹپکائے گا تھوڑا تھوڑا ہم نے تہذیب سے میخانے کا بدلا ہے نظام ہم نے مے پھینکی نہ ...

مزید پڑھیے

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو

ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دو موبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دو آج تو پیاسے صبر کے گھر میں یکجا ہیں دریاؤں کو آج اکیلا رونے دو سوچ لو دل کو باہر چھوڑ کے آئے تو ہم دو میں سے رہ جائیں گے پونے دو آندھی نے جو بھر دی ہے ان آنکھوں میں جانے کس کی گرد ہے آنکھیں دھونے دو اس صوفہ پر لیٹ کے ...

مزید پڑھیے

مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کر

مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کر رہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کر سب علم و ہنر بھول کے بچپن میں چلا جاؤں اے صاحب سحر ایسی کوئی جادوگری کر دیواروں سے بٹتے ہیں خرد مندوں کے خطے تو دشت جنوں میں نہ یہ دیوار کھڑی کر اک قافلہ پیاسوں کا گزرنا ہے یہاں سے اے دشت بلا اپنے سراپا کو نری ...

مزید پڑھیے

سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئے

سو تک گنتی بیس پہاڑے کام آئے ساری دولت میں یہ سکے کام آئے اتنے چہرے جیب میں رکھے پھرتے تھے وقت پڑے پر کتنے چہرے کام آئے تیری عیاشی تھی میری مجبوری تو نے کپڑے پھینکے میرے کام آئے جن کو چھت پر ڈال دیا تھا گرمی میں سردی میں وہ دھوپ کے ٹکڑے کام آئے آنکھوں نے ہی اس کو پالا پوسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4364 سے 5858