شاعری

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا

جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا لوٹ جاتا ہے پھر کدھر تنہا کچھ دعا بھی تو ہو مریض کے نام کب دوا کا ہوا اثر تنہا مدتوں خود کو ہی تراشا ہے سیپ میں رہ کے اک گہر تنہا عمر بھر سب کے کام آیا جو رو پڑا خود کو دیکھ کر تنہا سب مسرت میں ساتھ دیتے ہیں غم اٹھائیں گے ہم مگر تنہا ترک الفت جو اس نے کی ...

مزید پڑھیے

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا

ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا دل ہی ہے ایک آسرا دل کا چار سو بے خودی میں پھرتا ہے کچھ ٹھکانا نہیں رہا دل کا رسم دنیا کو کیوں یہ مانے گا ہے الگ جگ سے قاعدہ دل کا شیخ و پنڈت کو کوئی سمجھائے رب سے رہتا ہے رابطہ دل کا راہ انسانیت ہی اول ہے ہے یقیناً یہ فلسفہ دل کا دو جہاں بھی یہاں سما ...

مزید پڑھیے

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے ...

مزید پڑھیے

زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی

زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی تا اجل کرنا ہے بسر پھر بھی ٹوٹی پھوٹی ہوں چاہے دیواریں اپنا گھر تو ہے اپنا گھر پھر بھی چاہے انکار ہم کریں سچ کا ہووے ہے ذہن پر اثر پھر بھی دل مچلتا ہے ان سے ملنے کو ہم چراتے رہے نظر پھر بھی ہے یقیں تم ہمیں نہ بھولو گے اک زمانہ گیا گزر پھر بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

درد اکسیر کے سوا کیا ہے

درد اکسیر کے سوا کیا ہے زخم دل کے بنا مزا کیا ہے میری سانسوں میں بس گئی ہے مہک ہائے اس کوچے کی ہوا کیا ہے وصل کے چار دن تو بیت گئے صرف یادیں ہیں اب بچا کیا ہے دل دیا جس کو وہ ہوا غافل جرم اظہار کی سزا کیا ہے کھو گیا وہ جہاں کے میلے میں میری دنیا میں اب رہا کیا ہے بات ہوتی تھی کل ...

مزید پڑھیے

اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے

اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے درد الفت سے واسطہ کیا ہے رہنے دو ان حسین وعدوں کو جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے شعلۂ غم کو اور بھڑکائے کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے چھن گیا ہے سکون بھی میرا عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے چارہ گر کوئی بھی نہ ...

مزید پڑھیے

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے چلا رنگ دل کا پتہ رفتہ رفتہ بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر وہ دیتا ہے سب کو صلہ رفتہ رفتہ سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ ترے بن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن چھڑا ...

مزید پڑھیے

بدلتے پہلو

کتنی دل کش ہوتی ہیں خوش فہمیاں ختم ہونے سے پہلے بڑے رنگین ہوتے ہیں خواب بکھرنے سے پہلے بہت حسین ہوتے ہیں پھول مرجھانے سے پہلے بے حد خوبصورت ہوتی ہے محبت بے وفائی سے پہلے ہر آغاز پہنچتا ہے انجام کو ملن کا پیچھا کرتی ہے جدائی دن کے پہلو میں رہتی ہے رات اور زندگی کا دامن تھامے سایہ ...

مزید پڑھیے

لاشیں

لاش کو دفنانا آسان کام نہیں ہے مرنے والے کے احباب کو لگتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور کسی بھی وقت اٹھ کر انہیں گلے لگا سکتا ہے یہی سوچ کر وہ اس لاش کے دامن کو چھوڑنا نہیں چاہتے کوئی معجزہ ہونے پر ہی لاش میں جان آ سکتی ہے چاہے وہ موت انسان کی ہو یا کسی رشتے کی

مزید پڑھیے

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے وقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئے تو مری دہلیز پر آ کر ٹھہر جاتا ہے کیوں تو تو دریا ہے تجھے تو بس روانی چاہئے ہاتھ میں جس کے بھی دیکھو آگ کا کشکول ہے اور ہر اک کشکول کو کچھ بوند پانی چاہئے زندگی اور موت دونوں میں ہے اک رنگ کرم تم بتاؤ تم کو کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4363 سے 5858