شاعری

کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلا

کس نے کی بات ابھی کون شناسا نکلا یاد آیا تو مرا اپنا ہی چہرہ نکلا گرمیٔ زیست نہیں آج مقدر میں مرے آج سورج بھی جو نکلا تو ادھورا نکلا لوٹ جانے میں لگیں گے مجھے برسوں شاید یہ سمندر تو مری سوچ سے گہرا نکلا جسم تو لے گیا وہ رات میں چوری کر کے صبح بستر سے مرے جسم کا خاکہ نکلا زحمت ...

مزید پڑھیے

اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہو

اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہو دل کے اس پاگل خانے میں رہ سکتے ہو میرے دل میں رہنا راس نہیں آیا تو بے شک آنکھ سے آنسو بن کر بہہ سکتے ہو تم سر تا پا آگ ہو میں ہوں ٹوٹل پانی صاف ہے میرے ساتھ نہیں تم رہ سکتے ہو پتھر وتھر ظالم والم بے حس ویحس مجھ کو جو بھی کہنا چاہو کہہ سکتے ...

مزید پڑھیے

یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو

یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کو اور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کو ہم بتائیں گے تمہیں شانہ و گیسو کے رموز ختم کر لو حرم و دیر کے افسانے کو اس کو محفل میں جو دیکھا تپش غم کا شریک لے لیا شمع نے آغوش میں پروانے کو بادہ کش واعظ کج فہم سے کیا بحث کریں اس نے دیکھا ہے بہت دور سے میخانے ...

مزید پڑھیے

خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کا

خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کا جھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کا ہزاروں اس میکدے میں آ کر چلے گئے تشنگی بجھا کر مگر مرا ناز تشنہ کامی طواف کرتا رہا سبو کا حکایت چشم ناز تجھ سے حدیث راز و نیاز تجھ سے یہ سوز تجھ سے یہ ساز تجھ سے کہ تو محرک ہے آرزو ...

مزید پڑھیے

شاعر ہوئے تو کیا ہوئے احسانؔ ہی رہے

شاعر ہوئے تو کیا ہوئے احسانؔ ہی رہے مرزاؔ و میرؔ بن نہ سکے خان ہی رہے امکاں کے دائرے کو جو وسعت نہ دے سکے اپنے حدود ذات کا عرفان ہی رہے جب دل ہو مضطرب تو کہاں تک خودی کی لاج اے ناز حسن آج تری آن ہی رہے آہٹ کسی کے پاؤں کی آئی نہ صبح تک ہم دل کی دھڑکنوں کے نگہبان ہی رہے پہنچا نہ دست ...

مزید پڑھیے

سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقی

سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقی وہ کیا جانیں کہ ہے بادہ کشی بھی ایک فن ساقی نکال ان کو سبو و جام میں جو فرق کرتے ہیں تمیز بیش و کم ہے عقل کا دیوانہ پن ساقی تکلف بر طرف ہم شوق کی مستی سے ڈرتے ہیں یہی ہے راہبر ساقی یہی ہے راہزن ساقی نظر آتی ہے ساری کائنات مے کدہ روشن یہ کس ...

مزید پڑھیے

بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی

بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھی ایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھی اب یہ جانا کہ وہ دن رات کے شکوے کیا تھے اب یہ معلوم ہوا وجہ شکایت کیا تھی کوئی اک شوخ اشارہ ہی بہت تھا اے دوست اتنے سنجیدہ تبسم کی ضرورت کیا تھی معذرت تھی وہ فقط اپنی غلط بینی کی جس پہ نازاں تھے بہت ہم وہ ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگا

خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگا حقیقت سامنے ہے جب تو افسانے سے کیا ہوگا خرد سے جو نہیں ممکن جنوں وہ کر دکھاتا ہے غلط ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دیوانے سے کیا ہوگا اگر دریا میں رہنا ہے بہانا سیکھ موجوں سے خس و خاشاک کی مانند بہہ جانے سے کیا ہوگا اسی احساس سے پیدا ہوئی ہے فکر ...

مزید پڑھیے

کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئی

کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئی دے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئی ہے یہی شوق کی پستی و بلندی کا مزاج فرش کی گرد کوئی عرش کا مہماں کوئی ضعف و ہمت کے کرشمے ہیں چہ ممکن چہ محال کام مشکل ہے کوئی اور نہ آساں کوئی آج وہ دن ہے کہ روشن ہے شبستان خیال روک دے بڑھ کے ذرا گردش دوراں کوئی زلف ...

مزید پڑھیے

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے وہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہے ہم خواب دیکھتے تھے بہت آسمان کے آخر میں یہ ہوا کہ زمیں کے نہیں رہے ہم میں تھے جانے کون سے کانٹے اگے ہوئے سب کے رہے ہیں آپ ہمیں کے نہیں رہے دل کو جھکا کے دل سے ادا کر دئے گئے سجدے رہین صرف جبیں کے نہیں رہے دو چار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4365 سے 5858