شاعری

کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہے

کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہے یہ دو دلوں کے بیچ علاقائی جنگ ہے تنہائی سے علاقہ ہے مجھ کو مرے عزیز میرے لئے یہ انجمن آرائی جنگ ہے جو لڑ رہا ہوں مل کے محبت کے ساتھ میں یہ جنگ بھی میاں مری آبائی جنگ ہے سوچوں کا اختلاف ہے یہ اور کچھ نہیں سو پیش رفت اور نہ پسپائی جنگ ہے میں خود ...

مزید پڑھیے

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں ہوا درختوں کی داشتہ نئیں وفا کا سن کر ملال مت کر یہ پیشکش ہے مطالبہ نئیں یقین سے عشق ہو رہا ہے کسی کو فکری مغالطہ نئیں فسردہ لوگوں پہ ہنسنے والو یہ بد تمیزی کی انتہا نئیں نظر نظر سے سخن کرے گی یہ لب کشائی کا مرحلہ نئیں میں چل پڑوں گا کسی بھی ...

مزید پڑھیے

خوبصورتی

چہرے بے شمار چہرے نظر آتے ہیں زندگی کی راہوں پر ناک نقش نہیں ہو بہت مختلف ان میں سے ایک ہی چہرہ سب سے حسین لگتا ہے کیوں جب حقیقت میں ایسا ہے نہیں کیا سچ ہی کہا گیا ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بستی ہے یا پھر عشق کرنے والے حسن کو سہی پہچانتے ہیں روح کی نظروں سے

مزید پڑھیے

حفاظت

میں اس سگریٹ کا ٹکڑا ہوں جسے تم نے پیا تھا اپنی خوشی کے لئے اور اب اپنے جوتے سے مسل دینا چاہتے ہو تاکہ اس کی چنگاری آگ نہ لگا دے تمہارے لکڑی نما وجود کو محفوظ رہنے کی تمہاری خواہش تمہارے جذبات کو سن کر دیتی ہے کسی دوسرے کی تڑپ تم پر کوئی اثر نہیں کرتی سگریٹ کے بچے ٹکڑے کو آسانی سے ...

مزید پڑھیے

یاد

یاد ایک بے رنگ بے مہک مرجھایا ہوا گلاب جس کے کانٹوں کی چبھن باقی رہتی ہے صدا یاد ماضی کی بنائی ہوئی ایک دھندلی تصویر میل نہیں کھاتا جس سے حال کا چہرہ پھر بھی لگی ہے دل کی دیوار پر یاد ٹوٹا پھوٹا ایک ایسا کھلونا جس سے انسان دل بہلانا چاہے بے کار ہونے کے باوجود اسے پھینکنا نہیں ...

مزید پڑھیے

کردار

زندگی کے ناٹک میں ایک اداکارہ ہوں میں یہ ہوگا المیہ یا رزمیہ کون بتا سکتا ہے جب پردہ اٹھتا ہے مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے کچھ سوچے سمجھے بغیر دوسرے اداکاروں کے اشاروں پر بولنے پڑتے ہیں اپنے مکالمے میرے کردار ہیں بے شمار مختلف جذبات لیے مدد کرنے کے لئے مجھے پس پردہ کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہے

سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہے اس دور کا انسان کہاں دیکھ رہا ہے حالات نے جس کے سبھی پر کاٹ دئے ہیں وہ آج بھی منزل کا نشاں دیکھ رہا ہے عیار بہت ہے یہاں تخریب کا موجد وہ برف کے جنگل میں دھواں دیکھ رہا ہے اک روز پکڑ لے گا وہ قاتل کا گریباں جو وقت کی رفتار زباں دیکھ رہا ہے صدیوں ...

مزید پڑھیے

سنگ اس کا ہے اور سر میرا

سنگ اس کا ہے اور سر میرا آخری موڑ پر ہے ڈر میرا اک چھلاوا ہے میل کا پتھر اک حقیقت ہے یہ سفر میرا اے ہواؤ چلو گواہی دو تم نے دیکھا ہے جلتا گھر میرا دو گھڑی اور مجھ کو سن لیجے اب تو قصہ ہے مختصر میرا جب زمانہ تھا میری مٹھی میں کام آیا بہت ہنر میرا میں نہیں فن شناس کہتے ہیں نام ...

مزید پڑھیے

رشتے کی سچائی

ہم جانتے ہیں یہ دنیا ہمیں جینے نہیں دے گی فاصلے کی دیواریں ہم دونوں کے درمیان بڑھتی رہیں گی یہ کیسا رشتہ ہے ہم دونوں اپنے اپنے احساسات سے واقف ہیں مگر یہ رسم و رواج آدمی سے آدمی کی تفریق کے۔۔۔ ہم دونوں محض اپنی آنکھوں کے علاوہ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے آب زم زم یا گنگا جل ایک ...

مزید پڑھیے

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں کچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیں روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پے کئی بار جو لفظ مری شعلہ بیانی میں مرے ہیں کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے کچھ جذبے مرے نقل مکانی میں مرے ہیں قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4361 سے 5858