شاعری

خوف سا پھر لبوں پہ طاری ہے

خوف سا پھر لبوں پہ طاری ہے اک عجب کیفیت ہماری ہے آؤ بدلیں نظام گلشن ہم کچھ ہماری بھی ذمہ داری ہے روشنی حق کے ایک جگنو کی سینکڑوں ظلمتوں پہ بھاری ہے آپ کا تو کوئی جواب نہیں آئیے اب ہماری باری ہے جشن تدفین آرزو وصال اور سانسوں کا رقص جاری ہے وصل کا ایک قیمتی لمحہ ہجر کی مدتوں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی اندھی راتیں

کنپکنپاتا سا بدن برف سی ٹھنڈی راتیں یہ قیامت سی کئی مدتوں لمبی راتیں یہ سلگتے ہوئے جذبات میں دہکی راتیں نیم سی کڑوی کریلے سے کسیلی راتیں کتنی ظالم ہیں یہ تنہائی میں ڈوبی راتیں تم پہ اتری ہیں کبھی ہجر کی اندھی راتیں تم پہ اتری ہی نہیں ہجر کی اندھی راتیں محفلیں چپ ہیں کبھی چیختی ...

مزید پڑھیے

وقت کے منظر

جتنے عجیب منظر دکھتے ہیں ہم کو اکثر سب کھیل وقت کا ہے سب وقت کے ہیں منظر پھولوں کا منہ دھلائے شبنم سے جب سویرا پنچھی سنائیں پڑھ کر قرآن اور بھجن کو کلیاں کھلیں چمن میں گل مہکے انجمن میں سورج کی انگلی پکڑے کرنیں چلیں چمن کو تب وقت کا یہ پہیا کتنا لگے ہے سندر سب کھیل وقت کا ہے سب ...

مزید پڑھیے

یاد ماضی

زندگی کے سیاہ کمرے میں بیتی یادوں کے چند جگنو ہیں جو مسلسل تسلیاں دے کر مجھ کو سمجھا رہے ہیں برسوں سے صرف پانا ہی شرط عشق نہیں عشق تو وہ عظیم مرکز ہے جس میں ہر شے سے پیار ہوتا ہے جس میں کھونا بھی اک عبادت ہے اور جب جب یہ بات سن کر کے میں ذرا بھی اداس ہوتا ہوں تو مری کوٹھری کا ہر ...

مزید پڑھیے

ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میں

ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میں میں بیٹھتا ہی نہیں واہیات لوگوں میں نہیں طویل مرے آشناؤں کی فہرست میں جانا جاتا ہوں بس پانچ سات لوگوں میں خدا کا شکر سخن رائیگاں نہیں میرا سنی گئی ہے مری بات بات لوگوں میں مجھے بھی چھوڑ کے جانا ہے ایک روز جہاں مرا شمار بھی ہے بے ثبات لوگوں ...

مزید پڑھیے

اس قدر غور سے نہ سن فعلن

اس قدر غور سے نہ سن فعلن بحر ٹوٹی ہوئی ہے چن فعلن گر عروضی زبان سیکھنی ہے پھر تو کہنا پڑے گا کن فعلن ہم نے اس کو کیا ہے استعمال کیوں نہ گائے ہمارے گن فعلن لفظ ہوتا ہے ہر غزل کی آنکھ خواب کے ساتھ اس میں بن فعلن زندگی ایسی بحر ہے جیسے فاعلاتن مفاعلن فعلن ہے اگر شاعری کوئی ...

مزید پڑھیے

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے نئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہے بلا جواز نہیں بولتا ہوں دیر تلک کہ میں نے بات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے یوں ہی نہیں مری آنکھوں میں اشک لہراتے کہ ہر کسی نے مرا دل دکھانا ہوتا ہے یہ منصفین کسی کو بھی حق نہیں دیتے خدا کا فیصلہ ہی منصفانہ ہوتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہ

کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہ لفظ کو تم نے تراشا شکریہ آپ کی خواہش تو پوری ہو گئی بن گیا ہوں میں تماشا شکریہ مہربانی مجھ پہ تم دونوں کی تھی اس لیے آشا نراشا شکریہ ہے غرض مجھ کو فقط آواز سے آپ بولیں جو بھی بھاشا شکریہ تم نے رکھا ہے بہت میرا خیال اے سبینہ اور نتاشا شکریہ بد دعائیں ...

مزید پڑھیے

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں وہ کہے کیسے ہو تم اور میں رونے لگ جاؤں اے مری آنکھ میں ٹھہرائے ہوئے وصل کے خواب میں تواتر سے ترے ساتھ نہ سونے لگ جاؤں مجھ کو ہر چیز میسر ہے محبت میں سو اب رائیگانی میں ترے داغ نہ دھونے لگ جاؤں اتنی خوش فہمی میں نقصان نہ ہو جائے کہیں میں ...

مزید پڑھیے

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں خواب کے راستے میں حاضر ہوں یاد ہے عشق تھا کبھی مجھ سے میں اسی سلسلے میں حاضر ہوں آپ مجھ میں سنورنا چاہتے ہیں لیجیے آئنے میں حاضر ہوں تم خسارہ سمجھ رہے ہو جسے میں اسی فائدے میں حاضر ہوں میرا ہونا نہیں مرا ہونا میں فقط دیکھنے میں حاضر ہوں آپ منظر کشی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4360 سے 5858