شاعری

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے

ہو کے باریک مل رہی ہے مجھے ہر خبر ویک مل رہی ہے مجھے خوش بہت ہیں ہم ایک دوسرے سے زندگی ٹھیک مل رہی ہے مجھے پھول ہے عشق کا سہولت کار اس سے تحریک مل رہی ہے مجھے مطمئن ہوں کے صاحبو ہر چیز گھر کے نزدیک مل رہی ہے مجھے مہ وشوں کو دعائیں دیتا ہوں حسن کی بھیک مل رہی ہے مجھے میں تیقن کی ...

مزید پڑھیے

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے ذرا سی بات کا کتنا فسانہ بنتا ہے میاں یہ شاخ محبت تمہارے سامنے ہے بناؤ اس پہ اگر آشیانہ بنتا ہے ہمارے درد پڑے ہیں چہار سمت یہاں سو مسکراؤ یہاں مسکرانا بنتا ہے چھپائے پھرتا ہوں آنکھوں میں اشک کے موتی کہ جمع کرنے سے دولت خزانہ بنتا ہے یہ دشت ہے ...

مزید پڑھیے

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے عشق بارودی سرنگوں کی طرح ہوتا ہے روشنی مجھ پہ بھی اتنا ہی اثر کرتی ہے میرا جلنا بھی پتنگوں کی طرح ہوتا ہے بعد میں آتی ہے تہذیب محبت صاحب ہر کوئی پہلے لفنگوں کی طرح ہوتا ہے اس سے بچنا ہی مناسب ہے ذرا دھیان رہے ہجر سفاک نہنگوں کی طرح ہوتا ہے ہے ...

مزید پڑھیے

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے اس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہے اب سامنے بنتا ہے مرا عکس تماشا یہ ہرزہ سرائی پس آئینہ نہیں ہے کچھ دن کی شناسائی شناسائی نہ سمجھو یہ خود سے تعلق مرا دیرینہ نہیں ہے احکام یہاں دل کے ہی چلتے ہیں کم و بیش یہ عشق ہے اس کی کوئی کابینہ نہیں ...

مزید پڑھیے

زمانے کی ستائی خودکشی ہے

زمانے کی ستائی خودکشی ہے محبت ابتدائی خودکشی ہے جہاں سفاک آنکھیں گھات میں ہوں وہاں چہرہ نمائی خودکشی ہے میں رائے عشق پر اب اور کیا دوں کہا تو ہے کہ بھائی خودکشی ہے میں اس کو پھول دے کر خوش نہیں ہوں کہ یہ بھی دلربائی خودکشی ہے یہ استعمال کرنے پر کھلا ہے کہ خوشبو کیمیاٸی ...

مزید پڑھیے

عشق جو والہانہ ہوتا ہے

عشق جو والہانہ ہوتا ہے خود کو ہی آزمانا ہوتا ہے صرف الفاظ ہی نہیں ہوتے شعر پورا زمانہ ہوتا ہے کشتیاں اور لوگ لاتے ہیں میں نے دریا بنانا ہوتا ہے مبتلا بے نشاں نہیں ہوتے ان کا اپنا گھرانا ہوتا ہے لوگ کرتے ہیں عشق کی باتیں میں نے کرکے دکھانا ہوتا ہے وصل تنہا نہیں ہے اس کے ...

مزید پڑھیے

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے خوشا کہ اس بار اس زمیں کو بھی دے گیا اک گلاب ...

مزید پڑھیے

ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے

ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے مٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑے آتی رہے گی موت کو آنا جہاں پہ ہے ہم نے تو اپنا زہر پیا اور چل پڑے صحرا سے شہر آنے میں اور اہتمام کیا دامن کا اپنے چاک سیا اور چل پڑے ہم سے بدن بدوشوں کا رخت سفر کہاں بس اپنا خاکدان لیا اور چل پڑے عجلت تھی ہم کو چاند ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا

مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا اسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیا یہ میرا گوشۂ دل پاک اسی کے دم سے ہے کہ رات دن کا یہاں اعتکاف اسی نے کیا بنا بتائے وہ دل میں سما بھی سکتا ہے اتر کے دل میں یہ سب انکشاف اسی نے کیا میں اس کے عہد پہ اب بھی ہوں منتظر اس کا خود اپنے عہد سے بھی انحراف ...

مزید پڑھیے

دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں

دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں لیکن تجھ کو بھول سکوں میں ایسی بھی تو بات نہیں بدلے بدلے سے لگتے ہیں آج یہ تیرے تیور کیوں پہلے جیسے کیوں اب تیرے پیار کے وہ جذبات نہیں میرے ہاتھ کی ساری لکیریں الجھی الجھی لاکھ سہی ان میں مجھ کو تو مل جائے ہوگی میری مات نہیں تم سے بچھڑے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4362 سے 5858