شاعری

کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی

کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی کہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گی سزائے مرگ کی صورت وصال گزرا تھا بچھڑ گئے ہیں تو کیا کیا قیامتیں ہوں گی جدائیوں میں زمانے نے کیا سلوک کیا کبھی دوبارہ ملے تو حکایتیں ہوں گی خوشا کہ اپنی وفا فاصلوں کی نذر ہوئی ہمارے بعد زمیں پر رفاقتیں ...

مزید پڑھیے

خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کا

خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کا ورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کا حیرت ہے سب تلاش پہ اس کی رہے مصر پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا ہے ارتکاز ذات میں وقفہ ذرا سی دیر ٹوٹا نہیں ہے رابطہ لو سے چراغ کا کب کس پہ مہربان ہو اور کب الٹ پڑے کس کو یہاں پتا ہے کسی کے دماغ کا ہوتا ہے پھر وہ ...

مزید پڑھیے

نہیں شوق خریداری میں دوڑے جا رہا ہے

نہیں شوق خریداری میں دوڑے جا رہا ہے یہ گاہک سیر بازاری میں دوڑے جا رہا ہے میسر کچھ نہیں ہے کھیل میں لا حاصلی کے یونہی بیکار بیکاری میں دوڑے جا رہا ہے اٹھائے پھر رہا ہے کوتوال عمر چابک بدن مجبور لاچاری میں دوڑے جا رہا ہے کھڑی ہے منفعت حیران باہر دائرے سے زیاں اپنی زیاں کاری میں ...

مزید پڑھیے

پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھا

پیشتر جنبش لب بات سے پہلے کیا تھا ذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھا وصلت و ہجرت عشاق میں کیا تھا اول نفی تھی بعد تو اثبات سے پہلے کیا تھا کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید گنبد وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہہ میں مشغلہ اس کا مری ذات سے ...

مزید پڑھیے

ذخیرہ گھر مقفل ہیں

گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہے آزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیں بد نصیبی گردنوں کا طوق ہے اور محنتوں کے ہات خالی ہیں ہوا کے ساتھ گندم کی مہک شہروں میں اڑتی ہے ذخیرہ گھر مقفل ہیں مشقت کا بدل کڑوے کسیلے موسموں کا ذائقہ ہے ہم پرانی جھولیاں پھیلائے خواہش کے ...

مزید پڑھیے

دشمنوں کے درمیان صلح

برگ آوارہ صدا آئے ہیں کوئی آوازۂ پا لائے ہیں تیرے پیغام رساں ہیں شاید اور پیمان وفا لائے ہیں گفتگو نرم ہے لہجہ دھیما اب کے انداز جدا لائے ہیں اک ندامت بھی ہے پچھتاوا بھی خفت جرم و جفا لائے ہیں آنکھ میں اشک پشیمانی کے ہونٹ پر حرف دعا لائے ہیں سارے سامان رفوگری کے جیب و دامن میں ...

مزید پڑھیے

نشان زندگی

کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر کون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہے میرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتا میں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتے اپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھا اپنا سامان اٹھاتا تو شب نصف پہر دست ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغ جسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتا خاک ...

مزید پڑھیے

کیسے کبھی کسی کو دکھائے گا آئینہ

کیسے کبھی کسی کو دکھائے گا آئینہ جب ایک دوسرے کو لڑائے گا آئینہ جس روشنی پہ عکس کا دار و مدار ہے اس روشنی کو کون دکھائے گا آئینہ فطرت میں اس کی ناز خرامی نہیں تو پھر کیوں کر کسی کے ناز اٹھائے گا آئینہ سمجھو کہ آئینے کا جنازہ نکل گیا جس دن امیر شہر کو بھائے گا آئینہ ایسا نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے

کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے گھر میں آیا ہوا مہمان برا لگتا ہے میں نے ہونٹوں پہ تبسم تو سجا رکھا ہے غم بھلانے میں مگر وقت بڑا لگتا ہے آپ بیکار مجھے شجرہ دکھانے آئے آپ جو بھی ہیں وہ لہجے سے پتا لگتا ہے جب ملاتا ہوں نظر تو نہیں ملتی نظریں جب ہٹاتا ہوں نظر اس کو برا لگتا ...

مزید پڑھیے

مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیا

مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیا اک سرا جب ملا دوسرا رہ گیا امتحاں کے لئے اور کیا رہ گیا اے خدا بس ترا آسرا رہ گیا ایسے رکھا گیا مجھ کو تصویر میں زندگی بھر مرا سر جھکا رہ گیا خود بھی شامل رہا ڈھونڈنے میں اسے عمر بھر جس کو میں ڈھونڈھتا رہ گیا وقت کی دھوپ میں مٹ گئے سب نشاں دل کے کاغذ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4355 سے 5858