اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے
اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے دل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سے ہر اک کو ہے اب انس اسی بت کی گلی سے ویران ہوئیں مسجدیں سونے ہیں کلیسے بوسہ ہی مجھے دو جو نہیں وصل پہ راضی اچھا ہے وہی کام جو ہو جائے خوشی سے واعظ جو پتا خلد کا پوچھے تو بتا دوں جنت کی طرف جاتے ہیں اس بت کی گلی ...