شاعری

اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے

اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سے دل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سے ہر اک کو ہے اب انس اسی بت کی گلی سے ویران ہوئیں مسجدیں سونے ہیں کلیسے بوسہ ہی مجھے دو جو نہیں وصل پہ راضی اچھا ہے وہی کام جو ہو جائے خوشی سے واعظ جو پتا خلد کا پوچھے تو بتا دوں جنت کی طرف جاتے ہیں اس بت کی گلی ...

مزید پڑھیے

آپ کو غیر سے الفت ہو گئی

آپ کو غیر سے الفت ہو گئی ہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئی ان بتوں سے ترک الفت ہو گئی مجھ پہ خالق کی عنایت ہو گئی ہجر میں اس کے یہ وحشت ہو گئی اپنے سائے سے بھی نفرت ہو گئی خواب میں ان کی زیارت ہو گئی آج پوری دل کی حسرت ہو گئی چلئے جھگڑوں سے فراغت ہو گئی جان اپنی نذر فرقت ہو گئی ہجر ...

مزید پڑھیے

امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیں

امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیں کہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیں اس کا طواف کرتے ہیں عشاق روز و شب کوئے صنم بھی رتبے میں کعبہ سے کم نہیں میرے سوال وصل کو للہ رد نہ کر دیکھ اے صنم یہ شیوۂ اہل کرم نہیں حوروں کا تجھ میں حسن ہے پریوں کی شوخیاں اے بت قسم خدا کی کسی سے تو کم ...

مزید پڑھیے

تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کرو

تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کرو بندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کرو مہندی مل کر تو نہ آنے کا بہانہ نہ کرو آج ہے وصل کی شب خون تمنا نہ کرو تم نکالو مرے ارماں مرا مطلب یہ نہیں مجھ کو کہنا تو یہ ہے غیر کا کہنا نہ کرو توبہ توبہ مئے الفت کو بتاتے ہو حرام بے پیے شیخ جی اس طرح سے ...

مزید پڑھیے

دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتا

دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتا سر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتا سچ کہتے ہیں سب لوگ محبت کو برا ہے حال دل بیمار تو دیکھا نہیں جاتا یہ کہہ کے وہ بالیں سے مرے اٹھ گئے افسوس کمبخت ترا حال تو دیکھا نہیں جاتا کیا دیں گے وہ میرے دل سوزاں کو تسلی سینے پہ مرے ہاتھ تو رکھا نہیں ...

مزید پڑھیے

اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیں

اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیں کوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیں پہلی سی اس میں عادت جور و ستم نہیں افسوس اب یہی ہے کہ اس وقت ہم نہیں ہاں کوئے غیر میں ترے نقش قدم نہیں تجھ پر مرا گمان خدا کی قسم نہیں مجھ نیم جاں کے قتل میں تاخیر اس قدر معلوم ہو گیا ترے خنجر میں دم نہیں نالو ...

مزید پڑھیے

ایک دم اس نے جدا کی نہ نقاب عارض

ایک دم اس نے جدا کی نہ نقاب عارض نہ ہوا دور شب وصل حجاب عارض کس پہ برہم ہیں بتوں کا جو بنا ہے چہرا کس پہ لائے گا غضب آج عتاب عارض لالہ و گل ہیں زمیں پر تو فلک پر مہ و مہر لیکن ان میں سے نہیں کوئی جواب عارض دیکھ کر جلوۂ رخسار ہوا میں بے ہوش تیز کس درجہ تھی اللہ شراب عارض شعلۂ طور ...

مزید پڑھیے

ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیں

ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیں سچ کہہ رہے ہو غیر کا یہ حوصلہ نہیں یاد بتاں نہیں کہ خیال خدا نہیں سب کچھ بشر کے دل میں ہے اے شیخ کیا نہیں واقف نہیں ہو تم ابھی حال رقیب سے میں نے برا کہا جو اسے کیا برا نہیں ٹھہرے رہو کہ بات ہی ہوگی تمام رات ڈرتے ہو کیوں کچھ اور مرا مدعا ...

مزید پڑھیے

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا

جب تک مرے ہونٹوں پہ ترا نام رہے گا دل بے خبر گردش ایام رہے گا مٹ جائے گا ہر نقش خیال غم ہستی لیکن ورق دل پہ ترا نام رہے گا کیوں ڈر ہے گناہوں کے سبب حشر کے دن سے ہم جانتے ہیں ان کا کرم عام رہے گا پیغام تو آئیں گے بہت دیر و حرم سے لیکن تری چوکھٹ سے مجھے کام رہے گا مے خانہ سلامت ہے ...

مزید پڑھیے

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا تمہارے عشق میں دیوانۂ منزل کہاں پہنچا نظر کی منزلوں میں بس تمہیں حسن مجسم تھے متاع آرزو لے کر میں الفت میں جہاں پہنچا اسی نے عشق بن کر دو جہاں کو پھونک ڈالا ہے وہ شعلہ جو تری نظروں سے دل کے درمیاں پہنچا جنوں ظاہر ہوا رخ پر خودی پر بے خودی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4339 سے 5858