شاعری

حرم ہے کیا چیز دیر کیا ہے کسی پہ میری نظر نہیں ہے

حرم ہے کیا چیز دیر کیا ہے کسی پہ میری نظر نہیں ہے میں تیرے جلووں میں کھو گیا ہوں مجھے اب اپنی خبر نہیں ہے جنہیں ہے ڈر راہ امتحاں سے انہیں ابھی یہ خبر نہیں ہے اگر کرم ان کا راہبر ہو کٹھن کوئی رہ گزر نہیں ہے بہ شوق سجدہ چلے ہیں لیکن عجیب مسلک ہے عاشقوں کا وہاں عبادت حرام ٹھہری جہاں ...

مزید پڑھیے

ہاں وہی عشق و محبت کی جلا ہوتی ہے

ہاں وہی عشق و محبت کی جلا ہوتی ہے جو عبادت در جاناں پہ ادا ہوتی ہے جو گرفتار محبت ہیں یہ ان سے پوچھو ناز کیا چیز ہے کیا چیز ادا ہوتی ہے ان کی نظروں کی حقیقت کو کوئی کیا جانے ان کی نظروں میں ہر اک غم کی دوا ہوتی ہے کیوں نہ چہرے پہ ملوں خاک در یار کو میں یہی وہ خاک ہے جو خاک شفا ہوتی ...

مزید پڑھیے

حسن بتاں کا عشق میری جان ہو گیا

حسن بتاں کا عشق میری جان ہو گیا یہ کفر اب تو حاصل‌ ایمان ہو گیا اے ضبط‌ دل یہ کیسی قیامت گزر گئی دیوانگی میں چاک گریبان ہو گیا وہ بن سنور کے پھر مری محفل میں آ گئے بیٹھے بٹھائے حشر کا سامان ہو گیا کر کے سنگھار آئے وہ ایسی ادا کے ساتھ آئینہ ان کو دیکھ کر حیران ہو گیا دیکھا جو اس ...

مزید پڑھیے

یہ تمنا ہے کہ اس طرح مسلماں ہوتا

یہ تمنا ہے کہ اس طرح مسلماں ہوتا میں ترے حسن پہ سو جان سے قرباں ہوتا عالم جوش جنوں میں جو ادا ہوتی نماز سر مرا سر کہاں ہوتا در جاناں ہوتا کچھ تمنا ہے تو بس یہ ہے محبت میں مجھے میرے ہاتھوں میں مرے یار کا دامن ہوتا تو اگر اپنا بنا لیتا مجھے میرے صنم کیوں محبت مرا چاک گریباں ...

مزید پڑھیے

اے صنم تو صنم ہے نرالا تو جدھر بھی نگاہیں اٹھا دے

اے صنم تو صنم ہے نرالا تو جدھر بھی نگاہیں اٹھا دے تو جسے چاہے کر دے مسلماں تو جسے چاہے کافر بنا دے لاج رکھ میرے جذب وفا کی میرے سجدوں کو اپنا پتہ دے مجھ کو آتا نہیں سر جھکانا بندگی کا طریقہ سکھا دے لاج رکھ تو مری بندگی کی یوں نہ بھٹکا مجھے در بدر تو یا مجھے میری منزل عطا کر یا ...

مزید پڑھیے

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم مہکا دیا فضاؤں کو گزرے جہاں سے ہم اب تو یہی حریم محبت ہے اے صنم جائیں کہاں اب اٹھ کے ترے آستاں سے ہم دنیا میں اب کہیں بھی ٹھہرتی نہیں نظر تجھ سا حسین لائیں تو لائیں کہاں سے ہم دل لے کے جس نے درد محبت عطا کیا مانگیں گے اب دوا بھی اسی مہرباں سے ...

مزید پڑھیے

مرے داغ دل وہ چراغ ہیں نہیں نسبتیں جنہیں شام سے

مرے داغ دل وہ چراغ ہیں نہیں نسبتیں جنہیں شام سے انہیں تو ہی آ کے بجھائے گا یہ جلے ہیں تیرے ہی نام سے میں ہوں ایک عاشق بے نوا تو نواز اپنے پیام سے یہ تری رضا پہ تری خوشی تو پکار لے کسی نام سے میں تو گم ہوں تیری تلاش میں مجھے کون جانے ترے سوا کوئی کیسے محرم راز ہو تری عاشقی کے مقام ...

مزید پڑھیے

وہ آشنائے منزل عرفاں ہوا نہیں

وہ آشنائے منزل عرفاں ہوا نہیں جس کو ترے کرم کا سہارا ملا نہیں دیکھا بہت نگاہ طلب کو ملا نہیں تم سے تم ہی ہو تم سا کوئی دوسرا نہیں جاؤں تو اٹھ کے جاؤں کہاں تیرے در سے میں تیرے سوا کسی کو بھی دل مانتا نہیں تیرا کرم متاع دو عالم مرے لئے تیرا کرم رہے تو دو عالم میں کیا نہیں دست طلب ...

مزید پڑھیے

دل میں لے کے کشش بندگی کی عشق کو آزما کر تو دیکھو

دل میں لے کے کشش بندگی کی عشق کو آزما کر تو دیکھو آستاں پر کبھی اس صنم کے اپنے سجدے لٹا کر تو دیکھو ہوگا ہر اک مقبول سجدہ عرش کا نور ہوگا جبیں پر عاشقو کوچۂ دلربا میں اپنے سر کو جھکا کر تو دیکھو ڈوب جائے گی خود مست ہو کر بے خودی جلوۂ معرفت میں جان جاناں شراب محبت میکشوں کو پلا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4340 سے 5858