شاعری

اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے

اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والے یہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والے کتنی پاکیزہ جگہ ہے کہ جہاں پر لوگوں اہل مقتل ہیں مری لاش جلانے والے غم دوراں کے مصائب کا مداوا کیا ہے عشق بس عشق بتاتے ہیں بتانے والے یہی سب لوگ ہیں ان سب نے مرا قتل کیا یہ مری قبر کو پھولوں سے سجانے ...

مزید پڑھیے

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی

سنو خاموش ہی ہستی مری تم سے جدا ہوگی کہ اب ہر اک فریاد عنایت بے نوا ہوگی کسی فرد محبت سے بھلا امید کیا رکھنا محبت بے وفا تھی بے وفا ہے بے وفا ہوگی پرانے کاغذوں پہ درج میری شاعری شاید کسی مجروح دل کے زخم کی مائل ردا ہوگی کرو گے ظلم کب تک مشورہ ہے باز آ جاؤ بہت پچھتاؤ گے تم ظلم ...

مزید پڑھیے

اور تو کچھ نہیں کیا ہوگا

اور تو کچھ نہیں کیا ہوگا میں نے پھر موت کو جیا ہوگا اس کے ساگر سے لب لگائے تھے اس نے اک گھونٹ تو پیا ہوگا آج بلبل نے اس چنبیلی سے جانے کیا کان میں کہا ہوگا ایک باقی چراغ تھا اچھا اس کو تم نے بجھا دیا ہوگا کچھ دنوں قبل تک نیا تھا میں اب جو ہے آج کل نیا ہوگا

مزید پڑھیے

عشق کی آج انتہا کر دو

عشق کی آج انتہا کر دو روح کو جسم سے جدا کر دو ہے خلاصہ یہی محبت کا ہو جو اچھا اسے برا کر دو یہ جو آنکھوں سے خون جاری ہے اس کو ہاتھوں کی تم حنا کر دو وقت رخصت گلے لگا لینا آخری بار یہ خطا کر دو تم مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتی اپنے حق میں تو فیصلہ کر دو شبنمی رات کے اندھیرے کو برہنہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا

آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا اے جلوۂ محبوبی جب تیرا خیال آیا تھا ان کی توجہ میں ہر جذب طلب میرا ہر چند مؤدب تھی جب میرا سوال آیا اس بات پہ بدلی ہے بس چشم کرم ان کی عشاق کے ہونٹوں پہ کیوں حرف سوال آیا یا ان کے حسین ابرو آئے ہیں تصور میں یا محفل ہستی میں رخشندہ ہلال آیا ہم ...

مزید پڑھیے

جلوہ جو ترے رخ کا احساس میں ڈھل جائے

جلوہ جو ترے رخ کا احساس میں ڈھل جائے اس عالم ہستی کا عالم ہی بدل جائے ان مست نگاہوں کا اک دور جو چل جائے ہم درد کے ماروں کی تقدیر بدل جائے مصروف عبادت کا یوں ختم ہو افسانہ سر ہو تری چوکھٹ پہ دم میرا نکل جائے تو لاکھ بچا دامن در سے نہ اٹھوں گا میں ان میں سے نہیں ہوں میں ٹالے سے جو ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی پیش نظر عشق میں کیا کیا نہ رہا

ہر گھڑی پیش نظر عشق میں کیا کیا نہ رہا میرا دل بس تری تصویر کا دیوانہ رہا یہ ستم مجھ پہ مرے عشق کا اچھا نہ رہا تجھ کو دیکھا تو مرا دل مرا اپنا نہ رہا ایسا مدہوش کیا تیری تجلی نے مجھے طور بھی میرے لئے وجہ تماشہ نہ رہا یوں ترے نقش کف پا پہ ادا کی ہے نماز سر میں کعبہ کے لئے ایک بھی ...

مزید پڑھیے

یوں نہ آنکھیں بدل مجھ سے میرے صنم میں ترے در سے اٹھ کر کہاں جاؤں گا

یوں نہ آنکھیں بدل مجھ سے میرے صنم میں ترے در سے اٹھ کر کہاں جاؤں گا تو اگر مجھ سے دامن بچاتا رہا سر ترے در سے ٹکرا کے مر جاؤں گا ہو چکی ہیں زمانے میں رسوائیاں اب نگاہیں چرانے سے کیا فائدہ تو بھلا دے مجھے اپنے دل سے مگر میں جہاں جاؤں گا تیرا کہلاؤں گا چاند تاروں سے نظریں ملائے ...

مزید پڑھیے

عشق صنم نماز ہے ہے یہی زندگی مری

عشق صنم نماز ہے ہے یہی زندگی مری دل ہے مرا صنم کدہ دین ہے میرا کافری سر بہ سجود ہوں صنم بت کدۂ مجاز میں دے گئی بت پرستیاں تیری ادائے دلبری زاہد عشق سے جدا مذہب عشق ہے مرا جھکنا در نقیب پر میرے لئے ہے بہتری میرے سر نیاز کو دیر و حرم کریں سلام مجھ کو ترے خیال نے بخشی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

تم ہو شریک غم تو مجھے کوئی غم نہیں

تم ہو شریک غم تو مجھے کوئی غم نہیں دنیا بھی مرے واسطے جنت سے کم نہیں چاہا ہے تجھ کو تجھ پہ لٹائی ہے زندگی تیرے علاوہ کچھ مرا دین و دھرم نہیں وہ بد نصیب راحت ہستی نہ پا سکا جس پہ مرے حبیب کی چشم کرم نہیں میں بندۂ صنم سہی کافر سہی مگر پائے مرا مقام کسی میں یہ دم نہیں اس راستے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4338 سے 5858