شاعری

اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں

اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں جو میں نہیں تو نہیں اور جو تو نہیں تو نہیں کسے خیال ہے اپنے سوا کسی کا یہاں یہاں کسی کو تری آرزو نہیں تو نہیں مرے تو شہر میں بہتی ہیں خون کی ندیاں اسے نصیب کوئی آب جو نہیں تو نہیں ابھی تو ذہن میں سپنوں کا شور جاری ہے ابھی جو تم سے کوئی گفتگو ...

مزید پڑھیے

مری چاہتوں کا صلہ دے رہے ہو

مری چاہتوں کا صلہ دے رہے ہو یوں لگتا ہے جیسے سزا دے رہے ہو نہ ساحل نہ ساحل کے آثار تک ہیں دلاسے عبث ناخدا دے رہے ہو اداؤں اشاروں سے لگتا ہے جیسے کوئی زخم پھر سے نیا دے رہے ہو یہاں ہر کوئی خود میں ڈوبا ہے گم ہے دوانے کسے تم صدا دے رہے ہو مری جان مانگا تھا کچھ اور میں نے غم ہجر پھر ...

مزید پڑھیے

پھر ہوئی شام بیابان کو پاگل نکلا

پھر ہوئی شام بیابان کو پاگل نکلا ہاتھ میں لے کے چراغ دل بے کل نکلا تیری محفل کو سجانے کئی جگنو آئے چاند لہرا کے شب تار کا آنچل نکلا عمر بھر کر کے سفر ہم جو وہاں تک پہنچے ہائے قسمت کہ وہ دروازہ مقفل نکلا یاں تو مذہب بھی ہے تہذیب و تمدن پھر بھی میں جسے شہر سمجھتا تھا وہ جنگل ...

مزید پڑھیے

شام کی راہ دیکھتا ہوں میں

شام کی راہ دیکھتا ہوں میں ایک جلتا ہوا دیا ہوں میں تیرا کہنا کہ بے وفا ہوں میں اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں میں تمہیں گھر پہ مل نہیں سکتا خود سے ملنے کہیں چلا ہوں میں مت سمجھ مجھ کو محسن گرداب ایک کشتی کا نا خدا ہوں میں تیری منزل ہے راستہ میرا یاد رکھ تیرا رہنما ہوں میں ساری ...

مزید پڑھیے

آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے

آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے پاؤں کی ٹھوکر پہ اپنی گردش ایام ہے باغ میں تتلی ہے گل ہے حسن لالہ فام ہے چاندنی ہے رقص میں رنگینیوں کی شام ہے بے حسی کہئے اسے یا خوگر غم جانیے اپنی ناکامی پہ بھی خوش یہ دل ناکام ہے ہم کو ان سے ہے توقع وہ سراپا ہیں گریز ہیں وفا نا آشنا ہم پر یہی ...

مزید پڑھیے

شہر آباد ہو چکا بھی ہے

شہر آباد ہو چکا بھی ہے اور پھر سے اجڑ رہا بھی ہے روز و شب کا سفر بھی ہے جاری اور مسافر تھکا ہوا بھی ہے رات ہے چاند ہے ستارے ہیں اور خوابوں کا سلسلہ بھی ہے اک تو حوران خلد کی خواہش اور پھر بخت نارسا بھی ہے خود فریبی کی آخری حد تک ہم نے بدلا تو آئینہ بھی ہے ہم نے بازی تو یوں نہیں ...

مزید پڑھیے

دل کی ہر بات مان لی ہم نے

دل کی ہر بات مان لی ہم نے تجھ کو پانے کی ٹھان لی ہم نے شہر کی وحشتوں سے گھبرا کر چادر دشت تان لی ہم نے ایک دوجے سے چاہتوں کے عوض عمر بھر کی تھکان لی ہم نے بیچ کر دشمنوں کو سارے تیر ایک خالی کمان لی ہم نے شاید اک روز اس میں دب جائیں کوئلے کی جو کان لی ہم نے جب تماشے کو گرم ہونا ...

مزید پڑھیے

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا

کبھی صلیب کی صورت کبھی ہلالی تھا مری نگاہ میں اک پیکر خیالی تھا ہماری آپ کی شاید کوئی مثال نہیں جو مر گیا ہے وہی آدمی مثالی تھا کئی پتنگ کی صورت خلا میں ڈوب گیا وہ جتنا تیز تھا اتنا ہی لاابالی تھا اڑا اور اڑ کے فضاؤں میں ہو گیا تحلیل بدن کے بوجھ سے اس کا وجود خالی تھا وہ توڑ ...

مزید پڑھیے

شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا

شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا چلو کہ فن کا افق کشت‌ زعفراں تو ہوا بلا سے لے اڑی مجھ کو شعاع نور سحر فصیل شب سے گزر کر میں بے کراں تو ہوا یہ کم نہیں ہے کہ میں ہوں خلاؤں کا ہم راز مرے وجود میں گم سارا آسماں تو ہوا یہ ٹھیک ہے کہ فنا ہو گیا وجود اس کا مگر وہ قطرہ سمندر کا رازداں ...

مزید پڑھیے

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے

کوئی دھڑکن کوئی الجھن کوئی بندھن مانگے ہر نفس اپنی کہانی میں نیا پن مانگے دشت افکار میں ہم سے نئے موسم کا مزاج بجلیاں تنکوں کی شعلوں کا نشیمن مانگے رات بھر گلیوں میں یخ بستہ ہواؤں کی صدا کسی کھڑکی کی سلگتی ہوئی چلمن مانگے زہر سناٹے کا کب تک پئے صحرائے سکوت ریت کا ذرہ بھی آواز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4274 سے 5858