شاعری

موسم کا حال آنکھ کی کھڑکی بتائے گی

موسم کا حال آنکھ کی کھڑکی بتائے گی دن ڈھل گیا ہے شام کی سرخی بتائے گی مرجھا گئے جو شاخ اجل پر کھلے گلاب رس اڑ گیا ہے سانس کی تتلی بتائے گی آنکھوں پہ اعتبار نہ کر فاصلہ تو دیکھ دریا کے پار کیا ہے یہ کشتی بتائے گی دیوار پر شبیہ بنائیں گی انگلیاں کم روشنی فریب کو پنچھی بتائے گی لا ...

مزید پڑھیے

جس دم خیال یار کی بے چہرگی گئی

جس دم خیال یار کی بے چہرگی گئی آئینۂ فراق سے بے رونقی گئی بیٹھا غبار حسرت تعمیر اب کی بار شوق سفر کی راہ میں آوارگی گئی وحشت ہمارے ضبط کا اجڑا مزار ہے لاکھوں جتن کیے نہ سراسیمگی گئی ہم سے قبائے درد پہ تارے نہ ٹنک سکے کسب ہنر کی تاک میں واماندگی گئی ہونے کا اعتبار بناتی سحر کے ...

مزید پڑھیے

چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے

چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے خوشی کو گیت میسر نہیں زمانے سے سکوت ایسا ثمر بار تو کبھی نہ ہوا گل ملال جھڑا اب کے شاخسانے سے تمہارا قرب ہتھیلی پہ ریت جیسا ہے ہوا کے ساتھ بکھرتا ہے اک بہانے سے ہم اپنے بس میں جبینوں کے بل نہیں جاتے ہمیں چراغ بلاتے ہیں آستانے سے وہ دل کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

لاکھ چھپتے پھریں حرفوں میں سمٹتے جائیں

لاکھ چھپتے پھریں حرفوں میں سمٹتے جائیں شعر افتاد ہیں اڑ اڑ کے لپٹتے جائیں حسرت شوق نے اس درجہ اڑائی رنگت اب جو منظر ہمیں دیکھیں تو ٹھٹکتے جائیں دستک غم نے مری نیند ابھی توڑی ہے کرچیاں چنتے ہوئے خواب سسکتے جائیں بے گھڑی رسم عقیدت سی نبھائی ہم نے گھر کو جائیں بھی تو سو بار ...

مزید پڑھیے

واہمہ اضطراب کی چوکھٹ

واہمہ اضطراب کی چوکھٹ بے یقینی سراب کی چوکھٹ ابتری آستانۂ وحشت رائیگانی عذاب کی چوکھٹ سرمئی شام کے گھروندے میں یہ شفق ماہتاب کی چوکھٹ اس کتاب در تمنا پر ہے ترے انتساب کی چوکھٹ عکس ہے ضو فشانیوں کا محل آئنہ آب و تاب کی چوکھٹ خواہشوں کی غلام گردش میں تشنگی باریاب کی چوکھٹ

مزید پڑھیے

ایک در وا ہوا تو بند ہزار

ایک در وا ہوا تو بند ہزار مہرباں کم ہیں بہرہ مند ہزار ہاؤ ہو خاک لاؤ لشکر کی مرد کوئی نہیں کمند ہزار مرہم خوش مزاجیاں چیدہ دل کو پہنچی ہوئیں گزند ہزار تلخیٔ جام زیست جاتی نہیں ڈال کر دیکھ لی ہے قند ہزار آہ نکلی شمار سے باہر اشک ہو پائے بس کہ چند ہزار

مزید پڑھیے

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا

جب اچانک مرے پہلو سے مرا یار اٹھا درد سینے میں اٹھا اور کئی بار اٹھا زندگی بوجھ نہ بن جائے تن آسانی سے اپنے رستے میں کبھی خود کوئی دیوار اٹھا صرصر وقت سے غافل تھا تو اے کبر نژاد گر گئی خاک زمیں پر تری دستار اٹھا وہم نظارہ میں ہے عافیت دیدہ و دل بھول کر بھی نہ کبھی پردۂ اسرار ...

مزید پڑھیے

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا اس نے سمجھا نہ سر بزم اشارا اپنا کیا پکاروں کہ صدا بھی نہ وہاں جائے گی جانے کس دیس گیا یار وہ پیارا اپنا لے گیا دور اسے خواب عدم کا افسوں نیند سے پھر نہ اٹھا انجمن آرا اپنا عمر کے ساتھ جدا ہوتے چلے جائیں گے یار کم نہیں ہوگا کسی طور خسارا ...

مزید پڑھیے

فلک پہ چاند ہے اور پاس اک ستارہ ہے

فلک پہ چاند ہے اور پاس اک ستارہ ہے یہ تیری میری محبت کا استعارہ ہے شب و سحر کے تسلسل میں یہ طلوع و غروب سمجھنے والوں کو اک دکھ بھرا اشارہ ہے یہ تیرے سوزن مژگاں کے بس کی بات نہیں یہاں تو پیرہن جاں ہی پارہ پارہ ہے فقط کرشمۂ طرز نظر ہے سود و زیاں کسی کا نفع کسی کے لیے خسارہ ہے وہ جس ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا خود اپنے آپ کا جینا محال ہم نے کیا جو لذتیں ہیں دکھوں میں مسرتوں میں کہاں ملا عروج تو اس کو زوال ہم نے کیا نہ کار دل کے تھے لائق نہ کار دنیا کے جو کچھ کیا تو غم ماہ و سال ہم نے کیا ہزار درد کے موسم گزر گئے لیکن کبھی دراز نہ دست سوال ہم نے کیا یہ رمز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4273 سے 5858