دم بہ دم تغیر کے رنگ ہیں زمانے میں
دم بہ دم تغیر کے رنگ ہیں زمانے میں کچھ کمی نہیں آتی درد کے خزانے میں غیر کی شکایت کیا شوق لذت غم سے میں بھی ہو گیا شامل اپنا دل دکھانے میں میرے چار جانب تھے خار زار نفرت کے عمر کٹ گئی میری راستہ بنانے میں وقت نے ان آنکھوں کے خواب ہی بدل ڈالے دیر ہو گئی تجھ کو میرے پاس آنے ...