شاعری

دم بہ دم تغیر کے رنگ ہیں زمانے میں

دم بہ دم تغیر کے رنگ ہیں زمانے میں کچھ کمی نہیں آتی درد کے خزانے میں غیر کی شکایت کیا شوق لذت غم سے میں بھی ہو گیا شامل اپنا دل دکھانے میں میرے چار جانب تھے خار زار نفرت کے عمر کٹ گئی میری راستہ بنانے میں وقت نے ان آنکھوں کے خواب ہی بدل ڈالے دیر ہو گئی تجھ کو میرے پاس آنے ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے تھوڑی سی محبت ہے زیادہ تو نہیں ہے اسلوب نظر سے مرا مفہوم نہ سمجھے وہ یار مرا اتنا بھی سادہ تو نہیں ہے آغاز جو کی میں نے نئی ایک محبت یہ پچھلی محبت کا اعادہ تو نہیں ہے سینے میں بجھا جاتا ہے دل میرا سر شام اس غم کا علاج آتش بادہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا میں نے اپنے آپ سے کتنا بڑا دھوکا کیا عمر بھر کا ہم نفس اک پل میں رخصت ہو گیا اور میں خاموش اسے جاتے ہوئے دیکھا کیا اک ذرا سی بات پر روٹھا رہا وہ دیر تک مسکرا کے خود ہی پھر میری طرف چہرا کیا فکر کی لذت کے باعث ہیں مری ناکامیاں سب عمل کرتے رہے ...

مزید پڑھیے

کوئی رہزن نہ مسافر نہ شجر کی صورت

کوئی رہزن نہ مسافر نہ شجر کی صورت دیکھ اس اجڑی ہوئی راہ گزر کی صورت جانے کب خانہ بدوشی کے یہ دن گزریں گے مدتیں ہو گئیں دیکھے ہوئے گھر کی صورت پہلے دکھ تھا کہ سر راہ گزر بیٹھے ہیں اب کوئی رنج نہیں رنج سفر کی صورت اپنے ہی عکس سے فرصت نہیں ملتی ورنہ آئنے میں ہے کہیں آئینہ گر کی ...

مزید پڑھیے

یہ اشک آنکھ میں کس جستجو کے ساتھ آئے

یہ اشک آنکھ میں کس جستجو کے ساتھ آئے کہ تیرے ذکر تری گفتگو کے ساتھ آئے میں ایک نخل تھا یک رنگی خزاں کا اسیر یہ سارے رنگ تری آرزو کے ساتھ آئے جو کھو گئے تھے کہیں عمر کے دھندلکوں میں وہ عکس پھر کسی آئینہ رو کے ساتھ آئے فروغ نشۂ مے سے بھی جی بہل نہ سکا بہت سے غم تھے جو موج سبو کے ...

مزید پڑھیے

ملبوس غبار یاد رکھنا

ملبوس غبار یاد رکھنا یہ راہ گزار یاد رکھنا اک شام خزاں یہیں کہیں ہے اے صبح بہار یاد رکھنا ہم کشتی عشق کے مسافر اترے نہیں پار یاد رکھنا اے زخمہ وران بربط دل ٹوٹے ہوئے تار یاد رکھنا پت جھڑ کی ہوائیں چیختی ہیں کیا صوت ہزار یاد رکھنا ہم جاتے ہیں بار غم اٹھائے اے شہر نگار یاد ...

مزید پڑھیے

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا گزر گیا وہ جواب سلام کیا دیتا دیار شب سے بھی آگے مرا سفر تھا بہت سو میرا ساتھ وہ ماہ تمام کیا دیتا میں اس خرابۂ دل کے اجاڑ منظر میں کسی کو دعوت سیر و قیام کیا دیتا جو تو نہ آتا تو رنگ فسردگی کے سوا مری نگاہ کو یہ حسن شام کیا دیتا شکستہ پائی پہ ...

مزید پڑھیے

سرد ہوا ہے نوحہ گر رات بہت گزر گئی

سرد ہوا ہے نوحہ گر رات بہت گزر گئی غور سے دیکھ چشم تر رات بہت گزر گئی نیند میں گم ہیں دشت و باغ بجھ گئے شہر کے چراغ ایسے میں جاؤں میں کدھر رات بہت گزر گئی اب تو سمٹ رہے ہیں سائے لوٹ کے وہ جواں نہ آئے دل میں عجیب سا ہے ڈر رات بہت گزر گئی گونج رہی ہے دور تک اپنے ہی قدموں کی صدا سونی ...

مزید پڑھیے

شام ڈھلے اس بزم طرب میں میرا جانا خوب ہوا

شام ڈھلے اس بزم طرب میں میرا جانا خوب ہوا مجھ کو اچانک سامنے پا کر وہ کتنا محجوب ہوا دشت ستم میں کتنی صلیبیں استادہ تھیں چار طرف شاہ کے ہاتھ پہ بیعت کر لی کوئی نہ یاں مصلوب ہوا رسوائی کے سائے ہمیشہ پیچھا کرتے رہتے ہیں مجھ سے گریزاں ہو کر بھی وہ مجھ سے ہی منسوب ہوا کوچۂ یار میں ...

مزید پڑھیے

پلکوں پر نم باقی ہے

پلکوں پر نم باقی ہے اب تک وہ غم باقی ہے زخم کبھی بھر جائیں گے وقت کا مرہم باقی ہے کیسا ستم ہے وصل کے بیچ ہجر کا عالم باقی ہے پچھلی محبت کا تجھ میں رنگ اک مدھم باقی ہے چلتے رہنا ہے مجھ کو جب تک یہ دم باقی ہے ایک تعلق ہے یہ بھی نفرت باہم باقی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4275 سے 5858