شاعری

بیمار ہو گیا ہوں شفا خانہ چاہیے

بیمار ہو گیا ہوں شفا خانہ چاہیے یہ سارا شہر مجھ کو بیابانہ چاہیے سانسوں کی ضرب سے نہ کٹے گا ہمارا حبس ہم کو تو ایک پورا ہوا خانہ چاہیے یوں ہی دکھا رہی ہے محبت کے سبز باغ میرے بدن کو روح سے ہرجانہ چاہیے تاخیر ہو گئی تو بکھر جائے گا بدن آغوش یار اب تجھے کھل جانا چاہیے پھر دعوت ...

مزید پڑھیے

عجیب تجربہ آنکھوں کو ہونے والا تھا

عجیب تجربہ آنکھوں کو ہونے والا تھا بغیر نیند میں کل رات سونے والا تھا تبھی وہیں مجھے اس کی ہنسی سنائی پڑی میں اس کی یاد میں پلکیں بھگونے والا تھا کسی بدن کی صدا نے بچا لیا مجھ کو میں ورنہ روح کے جنگل میں کھونے والا تھا یہ سوچ سوچ کے اب تو ہنسی سی آتی ہے شروع عشق میں کتنا میں ...

مزید پڑھیے

راستے ہم سے راز کہنے لگے

راستے ہم سے راز کہنے لگے پھر تو ہم راستوں میں رہنے لگے میرے لفظوں کو مل گئی آنکھیں سارے آنسو لبوں سے بہنے لگے شہر کے لفظ کر دیے واپس اپنی ذات اپنی بات کہنے لگے ہم ابھی ٹھیک سے بنے بھی نہ تھے خود سے ٹکرائے اور ڈھہنے لگے اس نے تلقین صبر کی تھی سو ہم جو نہ سہنا تھا وہ بھی سہنے ...

مزید پڑھیے

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں

جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں اور وہی ہیں دور نظر سے جو جانے پہچانے ہیں زنجیروں کا بوجھ لئے ہیں بے دیوار کے زنداں میں پھر بھی کچھ آواز نہیں ہے کیسے یہ دیوانے ہیں بچ بچ کر چلتے ہیں ہر دم شیشے کی دیواروں سے کون کہے دیوانہ ان کو یہ تو سب فرزانے ہیں خود ہی بجھا دیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے

راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے سب نام و نسب والے بے نام و نسب نکلے تعمیر پسندی نے کچھ زیست پر اکسایا کچھ موت کے ساماں بھی جینے کا سب نکلے یہ نور کے سوداگر خود نور سے عاری ہیں گردوں پہ مہ و انجم تنویر طلب نکلے یہ دشت یہ صحرا سب ویران ہیں برسوں سے اس سمت بھی دیوانہ تکبیر بہ ...

مزید پڑھیے

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے مگر نفرت کا جذبہ بھی نہیں ہے یہاں کیوں بجلیاں منڈلا رہی ہیں یہاں تو ایک تنکا بھی نہیں ہے برہنہ سر میں صحرا میں کھڑا ہوں کوئی بادل کا ٹکڑا بھی نہیں ہے چلے آؤ مرے ویران دل تک ابھی اتنا اندھیرا بھی نہیں ہے سمندر پر ہے کیوں ہیبت سی طاری مسافر اتنا ...

مزید پڑھیے

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم

جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم پھر آدمی چھپائے تو کیسے چھپائے غم اس وقت تک ملی نہ مجھے لذت حیات جب تک رہا زمانے میں ناآشنائے غم میری نگاہ شوق ہی غم کا سبب نہیں ان کی نگاہ ناز بھی ہے رہنمائے غم سودائے عشق درد محبت جفائے دوست ہم نے خوشی کے واسطے کیا کیا اٹھائے غم شاید یہ ہے ...

مزید پڑھیے

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے

آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے پھر کیا کرے گا رہ کے کوئی تیرے شہر میں راتیں ہی جب نصیب ہوں راتیں ...

مزید پڑھیے

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے

راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے ربط اس زمیں کو ہے اور بھی زمینوں سے کون سا جہاں ہے یہ کیسے لوگ ہیں اس میں اٹھتا ہے دھواں ہر دم دل کے آبگینوں سے ہر بشر ہے فریادی ہر طرف اندھیرا ہے مہر و مہ نہیں نکلے شہر میں مہینوں سے اک طرف زبانوں پر دوستی کے نعرے ہیں اک طرف ٹپکتا ہے خون آستینوں ...

مزید پڑھیے

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی مانا وہ بے عمل تھا مگر آگہی تو تھی الزام نارسی سے مبرا نہیں تھی سیپ لیکن کسی کے شوق میں ڈوبی ہوئی تو تھی مانا وہ دشت شوق میں پیاسا ہی مر گیا اک جھیل جستجو کی پس تشنگی تو تھی احساس پر محیط تھے لفظوں کے دائرے لفظوں کے دائروں میں مگر زندگی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4272 سے 5858