بیمار ہو گیا ہوں شفا خانہ چاہیے
بیمار ہو گیا ہوں شفا خانہ چاہیے یہ سارا شہر مجھ کو بیابانہ چاہیے سانسوں کی ضرب سے نہ کٹے گا ہمارا حبس ہم کو تو ایک پورا ہوا خانہ چاہیے یوں ہی دکھا رہی ہے محبت کے سبز باغ میرے بدن کو روح سے ہرجانہ چاہیے تاخیر ہو گئی تو بکھر جائے گا بدن آغوش یار اب تجھے کھل جانا چاہیے پھر دعوت ...