شاعری

جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے

جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہے عالم تمام ایک طلسم وجود ہے آرائش نمود سے بزم جمود ہے میری جبین شوق دلیل سجود ہے ہستی کا راز کیا ہے غم ہست و بود ہے عالم تمام دام رسوم و قیود ہے عکس جمال یار سے وہم نمود ہے ورنہ وجود خلق بھی خود بے وجود ہے اب کشتگان شوق کو کچھ بھی نہ چاہیئے فرش ...

مزید پڑھیے

تارے گننے کے زمانے اب کہاں

تارے گننے کے زمانے اب کہاں عاشقی کے وہ ترانے اب کہاں کون مرتا ہے کسی کے واسطے لیلیٰ مجنوں کے فسانے اب کہاں وہ نہ دریا اور نہ گہری چاہتیں سوہنی اور ماہی دیوانے اب کہاں کون چیرے گا پہاڑوں کے جگر تیشۂ فرہاد جانے اب کہاں آنکھوں آنکھوں میں جو ہوتے تھے کبھی ہیر رانجھے کے نشانے اب ...

مزید پڑھیے

ہر دکھ کو میں جھیلی ہوں

ہر دکھ کو میں جھیلی ہوں درد بساط پہ کھیلی ہوں خود سے ہی دل کی بات کروں اپنی آپ سہیلی ہوں کیا کوئی مجھ کو جانے گا ایسی ایک پہیلی ہوں تیرے جہاں کو مہکاؤں چمپا اور چنبیلی ہوں اپنے حصار میں لاؤں تجھے دست دعا کی ہتھیلی ہوں مجھ میں بستا نہیں کوئی پر اسرار حویلی ہوں کروں جو تیرے بس ...

مزید پڑھیے

پیار

کچھ کہتے کہتے رہ جانا اور رکتے رکتے کہہ جانا یہ پیار تو ایسا ہوتا ہے جو دل میں درد سموتا ہے اب بھیگی بھیگی شاموں میں اک چہرہ ہر پل آنکھوں میں ہنستا بھی ہے روتا بھی ہے دل میں درد ڈبوتا بھی ہے کہ اک احساس مٹانے کو کہ دل میں درد بسانے کو ہر دھڑکن میں ہر آنگن میں کہ چھنکے ہاتھ کے کنگن ...

مزید پڑھیے

اس لئے دوڑتے ہی ایسے ہیں

اس لئے دوڑتے ہی ایسے ہیں ہم کو کچھ وسوسے ہی ایسے ہیں واں پہ گندم بھی کھا نہیں سکتے خلد میں مسئلے ہی ایسے ہیں یا تو سارا جہان بہرا ہے یا تو ہم بولتے ہی ایسے ہیں روح بھی کیا کرے میاں آخر جسم کے مشغلے ہی ایسے ہیں یا مرا عکس جھوٹ کہتا ہے یا سبھی آئنے ہی ایسے ہیں اس کو چھپنے میں لطف ...

مزید پڑھیے

صدائے کن سے بھی پہلے کسی جہان میں تھے

صدائے کن سے بھی پہلے کسی جہان میں تھے وجود میں نہ سہی ہم خدا کے دھیان میں تھے وے کتنے خوش تھے جو کچھ بھی نہ جانتے تھے مگر جو جانتے تھے وے ہر دم اک امتحان میں تھے کسی کو حق کی طلب تھی کوئی مجاز پہ تھا اور ایک ہم تھے کہ دونوں کے درمیان میں تھے حقیقتوں میں اترنے سے تھوڑا پہلے ...

مزید پڑھیے

دنیا سے واسطہ نہ مجھے اپنے حال سے

دنیا سے واسطہ نہ مجھے اپنے حال سے وابستہ زندگی ہے تمہارے خیال سے پردہ اٹھا کے آپ نے یہ کیا ستم کیا دل کو جلا کے رکھ دیا برق جمال سے لٹ جاؤں گا جو دل سے یہ کانٹا نکل گیا ارماں نکل نہ جائے دل پائمال سے میرے اصول جیسے کسی کے نہیں اصول سب کا الگ خیال ہے میرے خیال سے فرمانؔ کیوں اداس ...

مزید پڑھیے

آپ کے در سے ہم اٹھ کر جائیں کیا

آپ کے در سے ہم اٹھ کر جائیں کیا کیا کریں بتلائیے مر جائیں کیا تیر و نشتر پار دل کے ہو گئے چیر کر سینہ تمہیں دکھلائیں کیا آرزوئیں اشک بن کر بہہ گئیں اب کہو ہم کیا کریں مر جائیں کیا آپ نے تو کہہ دیا بتلائیے دل ہی پہلو میں نہیں بتلائیں کیا آپ نے فرمانؔ سے دھوکا کیا یہ کہانی پھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4254 سے 5858