شاعری

اپنے دریا کی پیاس

صداقتوں کے جنوں کا ہم ایسا آئینہ ہیں جو اپنے عکسوں کا مان کھو کر شکستگی کا عذاب سہنے میں مبتلا ہے ہم ایسے طوفاں کا ماجرا ہیں جو ٹوٹتے پھوٹتے چٹختے سے اپنے اعصاب کے بکھرنے کی آس میں ہیں جو تشنہ لب ساحلوں کی مانند اپنے دریا کی پیاس میں ہیں جو دشت امکان کی ہواؤں کی برگزیدہ مگر دریدہ ...

مزید پڑھیے

تعارف

وہ زندگی کا عجیب و غریب موسم تھا بہاریں ٹوٹ پڑی تھیں سہانے جسموں پر نفس نفس میں فسوں تھا نظر نظر میں جنوں تصور مئے عصیاں سے چور چور بدن نجوم فکر و نظر ٹمٹما کے ڈوب گئے خمار ذہنوں پہ چھایا تو جسم جاگ اٹھے اندھیرا گہرا ہوا کائنات بہری ہوئی ابھر کے سایوں نے اک دوسرے کو پہچانا

مزید پڑھیے

ادھورے خواب

یہ غنیمت ہے کہ وہ خواب ادھورے ہی رہے وہ جو اک عمر تلک میری بے خواب نگاہوں کا اڑاتے تھے مذاق وہ جنہیں سادہ دلی سمجھی جنوں کا تریاک جو کبھی بام پہ چمکے کبھی در سے جھانکے کبھی روزن کبھی چلمن سے نمودار ہوئے جو کبھی زلف کا جادو تو کبھی شعلۂ رخسار ہوئے جو کبھی چشم فسوں کار ہوئے کھول کر ...

مزید پڑھیے

حرف نارسا

کھلی کتاب کے حروف شرمگیں نگاہ سے دیکھتے ہیں یوں مجھے کہ جیسے یہ نئے پڑوسی جانے کب سے میری الجھنوں کے رازدار ہیں ہر ایک لفظ درد بن کے خلوتوں میں گونجتا ہے رات بھر یہ خط بھی اجنبی نہیں یہ حرف بھی نہیں کہ ان کی ہر نگہ میں ہر ادا میں بولتے بدن کی ہر صدا میں میرے انگ انگ کے لیے کرب کی ...

مزید پڑھیے

خطرے کا نشان

دائروں میں چلتے چلتے ہم کہاں تک آ گئے اونگھتے ہی اونگھتے خواب گراں تک آ گئے گہرے پانی میں اتر کر پار ہونے کے بجائے ڈرتے ڈرتے اب تو خطرے کے نشاں تک آ گئے

مزید پڑھیے

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں ابر اٹھے اور برس جائے ضروری تو نہیں برق صیاد کے گھر پر بھی تو گر سکتی ہے آشیانوں پہ ہی لہرائے ضروری تو نہیں راہبر راہ مسافر کو دکھا دیتا ہے وہی منزل پہ پہنچ جائے ضروری تو نہیں نوک ہر خار خطرناک تو ہوتی ہے مگر سب کے دامن سے الجھ جائے ضروری ...

مزید پڑھیے

اک تشنہ لب نے بڑھ کے جو ساغر اٹھا لیا

اک تشنہ لب نے بڑھ کے جو ساغر اٹھا لیا ہر بو الہوس نے مے کدہ سر پر اٹھا لیا موجوں کے اتحاد کا عالم نہ پوچھئے قطرہ اٹھا اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا ترتیب دے رہا تھا میں فہرست دشمنان یاروں نے اتنی بات پہ خنجر اٹھا لیا میں ایسا بد نصیب کہ جس نے ازل کے روز پھینکا ہوا کسی کا مقدر اٹھا ...

مزید پڑھیے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے آنکھ میں رنگ تماشا نہیں رہنے دیتے چہچہاتے ہوئے پنچھی کو اڑا دیتے ہیں کسی سر میں کوئی سودا نہیں رہنے دیتے روشنی کا کوئی پرچم جو اٹھا کر نکلے اس طرح دار کو زندہ نہیں رہنے دیتے کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں ...

مزید پڑھیے

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں کسی جمال شفق تاب کا سہارا بنوں محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں یہ بھیگی بھیگی ہواؤں میں سرد سرد مہک جو دل کی آگ میں اترے تو کچھ گوارا بنوں ہر ایک غنچہ دہن کا یہی تقاضا ہے جمالیات کا میں آخری شمارہ ...

مزید پڑھیے

ہم وقت کے ہم سفر ہی ٹھہرے

ہم وقت کے ہم سفر ہی ٹھہرے کب تک کوئی اپنے گھر ہی ٹھہرے ہے کوکھ کوئی صدف نہیں ہے لازم تو نہیں گہر ہی ٹھہرے جی لیں گے وو لمحہ اوڑھ کر ہم اے کاش وو لمحہ بھر ہی ٹھہرے اونچی تھیں اڑانیں جن کی وہ بھی زندگیٔ بام و در ہی ٹھہرے اس شہر میں زندگی گراں ہے جو ٹھہرے وہ دار پر ہی ٹھہرے سورج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4246 سے 5858