شاعری

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ کہ ترے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں اے مورخ مری اجڑی ہوئی صورت پہ نہ جا شہر ویراں ہوں مگر وقت کا ...

مزید پڑھیے

یوں لگتا ہے جیسے ہم دریا کے رخ پر رہتے ہیں

یوں لگتا ہے جیسے ہم دریا کے رخ پر رہتے ہیں اس کی اندھی لہروں کے قاتل دھارے پر بہتے ہیں صدیوں کی تاریخ یہاں قرطاس ہوا پر لکھی ہے قرنوں کے افسانے ہم سے کوہ و بیاباں کہتے ہیں وقت سے پہلے بچوں نے چہروں پہ بڑھاپا اوڑھ لیا تتلی بن کر اڑنے والے سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں جب سے اندھی ظلمت نے ...

مزید پڑھیے

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ اس جسم کی خوشبو ہے گلابوں سے زیادہ اک قطرۂ شبنم کو ترستے ہیں گلستاں یہ فصل تو ممسک ہے سرابوں سے زیادہ پڑھنا ہے تو انسان کو پڑھنے کا ہنر سیکھ ہر چہرے پہ لکھا ہے کتابوں سے زیادہ پہنچا ہوں وہیں پر کہ چلا تھا میں جہاں سے ہستی کا سفر بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

جنگل اگا تھا حد نظر تک صداؤں کا

جنگل اگا تھا حد نظر تک صداؤں کا دیکھا جو مڑ کے نقشہ ہی بدلا تھا گاؤں کا جسموں کی قید توڑ کے نکلے تو شہر میں ہونے لگا ہے ہم پہ گماں دیوتاؤں کا اچھا ہوا تہی ہیں زر بندگی سے ہم ہر موڑ پر ہجوم کھڑا ہے خداؤں کا صحرا کا خار خار ہے محروم تشنگی کتنا ستم ظریف وہ چھالا تھا پاؤں کا سر رکھ ...

مزید پڑھیے

وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں

وہ روشنی ہے کہاں جس کے بعد سایا نہیں کسی نے آج تلک یہ سراغ پایا نہیں کہاں سے لاؤں وہ دل جو ترا برا چاہے عدوئے جاں ترا دکھ بھی کوئی پرایا نہیں تری صباحت صد رنگ میں بکھر جاؤں ابھی وہ لمحہ مری زندگی میں آیا نہیں ترے وجود پہ انگڑائی بن کے ٹوٹا ہے وہ نغمہ جو کسی مطرب نے گنگنایا ...

مزید پڑھیے

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے ورنہ آرائش افکار میں کیا رکھا ہے ہے ترا عکس ہی آئینۂ دل کی زینت ایک تصویر سے البم کو سجا رکھا ہے برگ صد چاک کا پردہ ہے شگفتہ گل سے قہقہوں سے کئی زخموں کو چھپا رکھا ہے اب نہ بھٹکیں گے مسافر نئی نسلوں کے کبھی ہم نے راہوں میں لہو اپنا جلا رکھا ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہیں سرد دماغوں کے دہکے دہکے الاؤ

ہوئے ہیں سرد دماغوں کے دہکے دہکے الاؤ نفس کی آنچ سے فکر و نظر کے دیپ جلاؤ کرن کرن کو سیہ بدلیوں نے گھیر لیا ہے تصورات کے دھندلے چراغو راہ دکھاؤ کہاں ہے گردش دوراں کدھر ہے سیل حوادث سکون‌ مرگ مسلسل میں ڈوبنے لگی ناؤ کبھی خزاں کے بگولے کبھی بہار کے جھولے سمجھ سکے نہ زمانے کے یہ ...

مزید پڑھیے

رنگ در رنگ حجابات اٹھانے ہوں گے

رنگ در رنگ حجابات اٹھانے ہوں گے بے محابا ہمیں سب جلوے دکھانے ہوں گے جن کو تاریخ کی نظریں بھی کبھی چھو نہ سکیں بطن گیتی میں کئی ایسے زمانے ہوں گے آج تک شاہوں کی تحویل میں جو آ نہ سکے سیکڑوں ایسے پر اسرار خزانے ہوں گے پشت ہا پشت سے جو دست نگر رہتے ہیں ان گنت ایسے بھی مظلوم گھرانے ...

مزید پڑھیے

اظہار عقیدت میں کہاں تک نکل آئے

اظہار عقیدت میں کہاں تک نکل آئے ہم اہل یقیں وہم و گماں تک نکل آئے شاداب بہاروں کے تمنائی کہاں ہیں موسم کے قدم زخم خزاں تک نکل آئے یہ کیسا الم ہے کہ گریباں ہو سلامت اور آنکھوں سے خوں بھی رگ جاں تک نکل آئے کب نکلے گی دیوانوں کی بارات گھروں سے سینوں میں بغاوت کے نشاں تک نکل ...

مزید پڑھیے

کون وہ باتیں سنتا ہے جو فصل جنوں کے باب میں ہیں

کون وہ باتیں سنتا ہے جو فصل جنوں کے باب میں ہیں کس کس کو بیدار کروں سب سورج میرے خواب میں ہیں بپھرے پانی کی موجیں ہر گھر کی چھت پہ رقصاں ہیں خیر مناؤں کس کس کی سب شہر مرے سیلاب میں ہیں چونا گچ دیواروں میں جھانکو تو خرابے پاؤ گے میری طرح کتنے ہی یہاں سقراط مرے احباب میں ہیں کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4247 سے 5858