میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں
میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ کہ ترے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں اے مورخ مری اجڑی ہوئی صورت پہ نہ جا شہر ویراں ہوں مگر وقت کا ...