شاعری

جب بھی نظم میکدہ بدلا گیا

جب بھی نظم میکدہ بدلا گیا اک نہ اک جام حسیں توڑا گیا جب سفینہ موج سے ٹکرا گیا ناخدا کو بھی خدا یاد آ گیا میں نے چھیڑا قصۂ جور فلک جانے کیوں ان کو پسینہ آ گیا دیکھ کر ان کی جفاؤں کا خلوص میں وفا کے نام پر شرما گیا آپ اب آئے آنسو پونچھنے جب مرے دامن پہ دھبہ آ گیا

مزید پڑھیے

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے وہ جور مسلسل سے باز آ تو گئے لیکن بے داد یہ کیا کم ہے بے داد نہیں کرتے ساحل کے تماشائی ہر ڈوبنے والے پر افسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے صحرا ...

مزید پڑھیے

ہم آگہئ عشق کا افسانہ کہیں گے

ہم آگہئ عشق کا افسانہ کہیں گے کچھ عقل کے مارے ہمیں دیوانہ کہیں گے رہتا ہے وہاں ذکر طہور و مئے کوثر ہم آج سے کعبہ کو بھی مے خانہ کہیں گے عنوان بدل دیں گے فقط آپ کی خاطر ہم جب بھی کہیں گے یہی افسانہ کہیں گے پروانے کو ہم شمع سمجھتے ہیں سر شام ہنگام سحر شمع کو پروانہ کہیں گے سر رکھ ...

مزید پڑھیے

حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے

حواس لوٹ لیے شورش تمنا نے ہری رتوں کے لیے بن گئے ہیں دیوانے بدلتے دیر نہیں لگتی اب حقیقت کو جو کل کی باتیں ہیں وہ آج کے ہیں افسانے ہے اب تو قطع تعلق کی ایک ہی صورت خدا کرے تو ہمیں دیکھ کر نہ پہچانے جو تیرے کوچے سے نکلے تو اک تماشہ تھے عجیب نظروں سے دیکھا ہے ہم کو دنیا نے سفر میں ...

مزید پڑھیے

وہ روز و شب بھی نہیں ہیں وہ رنگ و بو بھی نہیں

وہ روز و شب بھی نہیں ہیں وہ رنگ و بو بھی نہیں وہ بزم جام و سبو بھی نہیں وہ تو بھی نہیں نہ دل دھڑکتے ہیں مل کر نہ آنکھیں جھکتی ہیں لہو کی گردشیں اب مثل آب جو بھی نہیں کبھی کبھی کی ملاقات تھی سو وہ بھی گئی تری نگاہ کا رنگ بہانہ جو بھی نہیں کب آفتاب ڈھلے اور چاندنی چھٹکے کسی کو اب یہ ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں گرچہ تری راہ گزر سے آگے

کچھ نہیں گرچہ تری راہ گزر سے آگے دیکھنا کفر نہیں حد نظر سے آگے خود فریبی کے لیے گرم سفر ہیں ورنہ کیا ہے منزل کے سوا گرد سفر سے آگے میرا افلاک بھی تسکین نظر ہو نہ سکا تھے وہی شمس و قمر شمس و قمر سے آگے زندگی وقت کی دیواروں میں محبوس رہی کوئی پردہ نہ اٹھا شام و سحر سے آگے آج کے دور ...

مزید پڑھیے

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے کہ میں جہاں سے ہوں اترا خدا خدا کر کے ازل سے مجھ سے ہے وابستہ خیر و شر کا نظام نہ دیکھو مجھ کو مری ذات سے جدا کر کے میں جانتا ہوں مقفل ہیں سارے دروازے مجھے یہ ضد ہے کہ گزروں مگر صدا کر کے میں اپنے دور کے اس کرب کا ہوں آئینہ جو پیش رو ہوئے رخصت ...

مزید پڑھیے

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے

یادوں کا عجیب سلسلہ ہے سویا ہوا درد جاگ اٹھا ہے مٹ بھی چکے نقش پا مگر دل مہکی ہوئی چاپ سن رہا ہے دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن اندر سے مکان گر رہا ہے پوچھے ہے چٹک کے غنچۂ زخم اے اجنبی تیرا نام کیا ہے کس شعلہ بدن کی یاد آئی دامان خیال جل اٹھا ہے سوچا ہے یہ میں نے پی کے اکثر نشے میں ...

مزید پڑھیے

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک وسعت مری دیکھو تو ہے دیوار ابد تک ماحول میں سب گھولتے ہیں اپنی سیاہی رخ ایک ہی تصویر کے ہیں نیک سے بد تک کچھ فاصلے ایسے ہیں جو طے ہو نہیں سکتے جو لوگ کہ بھٹکے ہیں وہ بھٹکیں گے ابد تک کب تک کوئی کرتا پھرے کرنوں کی گدائی ظلمت کی کڑی دھوپ تو ڈستی ...

مزید پڑھیے

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا

چاندنی نے رات کا موسم جواں جیسے کیا ہم نے بھی چہرہ فروزاں شیشۂ مے سے کیا پاس خودداری تو ہے لیکن وفا دشمن نہیں تم نے ہم پر ترک الفت کا گماں کیسے کیا ہم گناہوں کی شریعت سے ہوئے جب آشنا جسم نے جو فیصلہ جیسے دیا ویسے کیا اس لیے اب ڈوبنے کے خوف سے ہیں بے نیاز ہم نے آغاز سفر دریاؤں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4245 سے 5858