شاعری

غم گساری کا ہے عالم دور تک

غم گساری کا ہے عالم دور تک گھاس پر پھیلی ہے شبنم دور تک ایک ہی جیسی فضا ہے چار سو ایک ہی جیسا ہے موسم دور تک زخم اپنے دیکھ کر ظاہر ہوا بانٹتا ہے کوئی مرہم دور تک چھیڑتی ہے بے خودی کے سلسلے شب کے سناٹوں میں سرگم دور تک اپنے مستقبل سے ہوتے با خبر دیکھ پاتے کاش جو ہم دور تک ساحل و ...

مزید پڑھیے

کم ہی ہوتے ہیں مقدر کے سکندر چہرے

کم ہی ہوتے ہیں مقدر کے سکندر چہرے کتنے مرجھائے ہیں ان چہروں کے اندر چہرے اہل کشتی کو تو ساحل کے ہی خواب آتے ہیں تکتا رہتا ہے سفینوں کے سمندر چہرے قہر کیا ٹوٹ پڑا رات کو اس بستی پر ایسے جھلسے جو نظر آتے ہیں گھر گھر چہرے بغض و نفرت کے ہدف ہیں یہ سیاست کے قتیل بھوکے ننگے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

کروں تجھ سے بے وفائی یہ کبھی روا نہیں تھا

کروں تجھ سے بے وفائی یہ کبھی روا نہیں تھا اسے بے وفا نہ کہنا کہ وہ بے وفا نہیں تھا یہ کسی کی سازشیں تھیں یا تھی مرضیٔ زمانہ مرا تجھ سے دور ہونا مرا فیصلہ نہیں تھا کہیں دور آ گئی تھی میں حدود زندگی سے مرے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا مری حالت زبوں سے تھا ہر ایک شخص واقف میں یہ ...

مزید پڑھیے

جسم کی دیوار کے باہر نہ دیکھ

جسم کی دیوار کے باہر نہ دیکھ دوسروں کی آنکھ سے منظر نہ دیکھ دشمنوں کی خامیوں پر رکھ نظر دوستوں کے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھ دہر میں رکھ ہر نفس سے خود غرض گھر کے ہوتے اور کوئی گھر نہ دیکھ یوں بھی ہے تجھ کو بکھرنا ایک دن ذات کے آئینے سے باہر نہ دیکھ بے قراری ہی مقدر ہے ترا ناز و انداز ...

مزید پڑھیے

کم ہی ہوتے ہیں مقدر کے سکندر چہرے

کم ہی ہوتے ہیں مقدر کے سکندر چہرے کتنے مرجھائے ہیں ان چہروں کے اندر چہرے اہل کشتی کو تو ساحل کے ہی خواب آتے ہیں تکتا رہتا ہے سفینوں کے سمندر چہرے قہر کیا ٹوٹ پڑا رات کو اس بستی پر جلے جھلسے جو نظر آتے ہیں گھر گھر چہرے دل میں اک جلتا ہوا تیر اتر جاتا ہے جب گھڑی بھر میں بدل جاتے ...

مزید پڑھیے

کروں تجھ سے بے وفائی یہ کبھی روا نہیں تھا

کروں تجھ سے بے وفائی یہ کبھی روا نہیں تھا اسے بے وفا نہ کہنا کہ وہ بے وفا نہیں تھا یہ کسی کی سازشیں تھیں یا تھی مرضیٔ زمانہ مرا تجھ سے دور ہونا مرا فیصلہ نہیں تھا کہیں دور آ گئی تھی میں حدود زندگی سے مرے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا مرے حالت زبوں سے تھا ہر ایک شخص واقف میں یہ ...

مزید پڑھیے

دل کا عالم بھی ہوا ہے عالم ہو کی طرح

دل کا عالم بھی ہوا ہے عالم ہو کی طرح آنکھ میں تو ہر گھڑی رہتا ہے آنسو کی طرح دل کے موسم میں کبھی تبدیلیاں آتی نہیں لگتی ہے باد صبا بھی کنکنی لو کی طرح اک تصور سے ترے مہکا ہے میرا انگ انگ تو مرے احساس میں بستا ہے خوشبو کی طرح سخت کالی رات میں امید کا ننھا دیا ہے فروزاں دل میں اک ...

مزید پڑھیے

تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ

تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ اب کے کسی بے نام سے موسم کی طرح آ ہر مرتبہ آتا ہے مہ نو کی طرح تو اس بار ذرا میری شب غم کی طرح آ حل کرنے ہیں مجھ کو کئی پیچیدہ مسائل اے جان وفا گیسوئے پر خم کی طرح آ زخموں کو گوارا نہیں یک رنگئ حالات نشتر کی طرح آ کبھی مرہم کی طرح آ نزدیکی و دوری ...

مزید پڑھیے

دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا

دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا گھر کو لگا کے آگ یہ مہمان جائے گا سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میں مجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا اس کفر عشق سے مجھے کیوں روکتے ہو تم ایمان والو میرا ہی ایمان جائے گا آج اس سے میں نے شکوہ کیا تھا شرارتاً کس کو خبر تھی اتنا برا مان جائے ...

مزید پڑھیے

مجھے پیار سے ترا دیکھنا مجھے چھپ چھپا کے وہ دیکھنا (ردیف .. و)

مجھے پیار سے ترا دیکھنا مجھے چھپ چھپا کے وہ دیکھنا مرا سویا جذبہ ابھارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو رہ و رسم قلب و نگاہ کے وہ تمہارے دعوے نباہ کے وہ ہمارا شیخی بگھارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ ہماری چھیڑ وہ شوخیاں وہ ہمارا کاٹنا چٹکیاں وہ تمہارا کہنی کا مارنا تمہیں یاد ہو کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4242 سے 5858