شاعری

وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے

وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے جس سے تری نگاہ ملے یا نظر پھرے راہ جنوں میں یوں تو ہیں لاکھوں ہی سرپھرے یارب مری طرح نہ کوئی عمر بھر پھرے رفتار یار کا اگر انداز بھول جائے گلشن میں خاک اڑاتی نسیم سحر پھرے ساقی کو بھی سکھاتے ہیں آداب میکشی ملتے ہیں مے کدہ میں کچھ ایسے بھی ...

مزید پڑھیے

اہل دیر و حرم رہ گئے

اہل دیر و حرم رہ گئے تیرے دیوانے کم رہ گئے مٹ گئے منزلوں کے نشاں صرف نقش قدم رہ گئے ہم نے ہر شے سنواری مگر ان کی زلفوں کے خم رہ گئے بے تکلف وہ اوروں سے ہیں ناز اٹھانے کو ہم رہ گئے رند جنت میں جا بھی چکے واعظ محترم رہ گئے دیکھ کر تیری تصویر کو آئنہ بن کے ہم رہ گئے اے فناؔ تیری ...

مزید پڑھیے

میرے چہرے سے غم آشکارا نہیں

میرے چہرے سے غم آشکارا نہیں یہ نہ سمجھو کہ میں غم کا مارا نہیں چشم ساقی پہ بھی حق ہمارا نہیں اب بجز ترک مے کوئی چارا نہیں بحر غم میں کسی کا سہارا نہیں یہ کوئی آسماں کا ستارا نہیں ڈوبنے کو تو ڈوبے مگر ناز ہے اہل ساحل کو ہم نے پکارا نہیں غنچہ و گل کو چونکا گئی ہے خزاں فصل گل نے ...

مزید پڑھیے

وہ جانے کتنا سر بزم شرمسار ہوا

وہ جانے کتنا سر بزم شرمسار ہوا سنا کے اپنی غزل میں قصوروار ہوا ہزار بار وہ گزرا ہے بے نیازانہ نہ جانے کیوں مجھے اب کے ہی نا گوار ہوا ہزاروں ہاتھ مری سمت ایک ساتھ اٹھے مگر میں ایک ہی پتھر میں سنگسار ہوا میں تیری یاد میں گم تھا کہ کھا گیا ٹھوکر یہ حادثہ مری راہوں میں بار بار ہوا

مزید پڑھیے

مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا

مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا اگر میرے پیچھے زمانہ پڑے گا بہت غم زدہ دل ہیں کلیوں کے لیکن اصولاً انہیں مسکرانا پڑے گا سکوں ڈھونڈنے آئے تھے مے کدہ میں یہاں سے کہیں اور جانا پڑے گا خبر کیا تھی جشن بہاراں کی خاطر ہمیں آشیانہ جلانا پڑے گا بہار اب نئے گل کھلانے لگی ہے خزاں کو چمن میں ...

مزید پڑھیے

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا آج تو اے دل حزیں تو نے کمال کر دیا سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوست میرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا مے کدہ میں ہے قحط مے یا کوئی اور بات ہے پیر مغاں نے کیوں مجھے جام سنبھال کر دیا جتنے چمن پرست تھے سایۂ گل میں مست تھے اپنا عروج گلستاں ...

مزید پڑھیے

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے جیسے جھوم جھوم کر گرد کارواں چلے آج یوں ہی ساقیا جام ارغواں چلے جیسے بزم وعظ میں شیخ کی زباں چلے راہ غم میں ہم سے وہ یوں کشاں کشاں چلے جیسے بچ کے عشق سے حسن بدگماں چلے دل دھڑک دھڑک اٹھا یوں کسی کو دیکھ کر جس طرح بہار میں نبض گلستاں چلے دل کی ...

مزید پڑھیے

دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کر

دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کر چیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کر آج ہے دل میں مرے کل ہے عدو کی آنکھ میں تجھ میں بھر دی ہے یہ ایسی کس نے شوخی کوٹ کر اپنے بیگانوں کی نظریں پڑ رہی ہیں آپ پر واہ کیا نام خدا نکلی جوانی پھوٹ کر اس کا دشمن سے تعلق اس کا دشمن سے ملاپ سن رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی

کسی صورت عدو کی ترک الفت ہو نہیں سکتی ہمارے حال پر تیری عنایت ہو نہیں سکتی کبھی تیرے سوا دل دوسرے پر آ نہیں سکتا کسی پر اب مری مائل طبیعت ہو نہیں سکتی بنی ہے مہر لب پیہم محبت اس ستم گر کی بیاں اب داستان درد فرقت ہو نہیں سکتی الٰہی میرا دل اس سنگ دل کا دل تو بن جائے مری تقدیر گر ...

مزید پڑھیے

مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا

مچلتی ہے مرے سینے میں تیری آرزو کیا کیا لیے پھرتی ہے تیری چاہ مجھ کو کو بہ کو کیا کیا رہی ہے بعد مردن بھی تمہاری جستجو کیا کیا غبار خاک مرقد اڑ رہا ہے چار سو کیا کیا کبھی عاشق کو سمجھایا کبھی غیروں کو بہلایا فریب آمیز ہیں چالیں تری او حیلہ جو کیا کیا رہائی دی مجھے قید علائق سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4243 سے 5858