وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے
وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے جس سے تری نگاہ ملے یا نظر پھرے راہ جنوں میں یوں تو ہیں لاکھوں ہی سرپھرے یارب مری طرح نہ کوئی عمر بھر پھرے رفتار یار کا اگر انداز بھول جائے گلشن میں خاک اڑاتی نسیم سحر پھرے ساقی کو بھی سکھاتے ہیں آداب میکشی ملتے ہیں مے کدہ میں کچھ ایسے بھی ...