جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں
جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں موسموں کو نظر انداز کیے دیتے ہیں کچھ تو پہلے سے تھا رگ رگ میں شجاعت کا سرور کچھ ہمیں آپ بھی جاں باز کیے دیتے ہیں حد سے آگے جو پرندے نہیں اڑنے والے حادثے ان کو بھی شہباز کیے دیتے ہیں دشت و صحرا یہ سمندر یہ جزیرے یہ پہاڑ منکشف ہم پہ کئی راز کیے ...