شاعری

جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں

جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں موسموں کو نظر انداز کیے دیتے ہیں کچھ تو پہلے سے تھا رگ رگ میں شجاعت کا سرور کچھ ہمیں آپ بھی جاں باز کیے دیتے ہیں حد سے آگے جو پرندے نہیں اڑنے والے حادثے ان کو بھی شہباز کیے دیتے ہیں دشت و صحرا یہ سمندر یہ جزیرے یہ پہاڑ منکشف ہم پہ کئی راز کیے ...

مزید پڑھیے

میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا

میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا یہ معجزہ مرے اندر ہوا تو کیسے ہوا یہ بھید سب پہ اجاگر ہوا تو کیسے ہوا کہ میرے دل میں ترا گھر ہوا تو کیسے ہوا نہ چاند نے کیا روشن مجھے نہ سورج نے تو میں جہاں میں منور ہوا تو کیسے ہوا نہ آس پاس چمن ہے نہ گل بدن کوئی ہمارا کمرہ معطر ہوا تو کیسے ...

مزید پڑھیے

ہماری حق نوائی کیا

ہماری حق نوائی کیا سنے گی یہ خدائی کیا کسی ظل الٰہی تک مری ہوگی رسائی کیا فلک سے جب اتر آئے سفر کرتے خلائی کیا انا کے سامنے تیری ہماری کج ادائی کیا تمہاری زلف پیچاں سے ملے گی اب رہائی کیا فراغؔ اس کی نگاہوں میں لہو کیا روشنائی کیا

مزید پڑھیے

کبھی حریف کبھی ہم نوا ہمیں ٹھہرے

کبھی حریف کبھی ہم نوا ہمیں ٹھہرے کہ دشمنوں کے بھی مشکل کشا ہمیں ٹھہرے کسی نے راہ کا پتھر ہمیں کو ٹھہرایا یہ اور بات کہ پھر آئینہ ہمیں ٹھہرے جو آزمایا گیا شہر کے فقیروں کو تو جاں نثار طریق انا ہمیں ٹھہرے ہمیں خدا کے سپاہی ہمیں مہاجر بھی تھے حق شناس تو پھر رہنما ہمیں ٹھہرے دلوں ...

مزید پڑھیے

کمپیوٹر

کمپیوٹر کا ہے یہ دور اب جینے کا بدلا طور دفتر دفتر گھر گھر آج دیکھ لو کمپیوٹر کا راج قدم قدم پر صبح و شام کمپیوٹر ہی آئے کام اس سے ہم کیوں ہوں محروم جب کمپیوٹر کی ہے دھوم دور ہمارا ہے کچھ اور کمپیوٹر سیکھو فی الفور چیز بنی حیرت انگیز اس کی میموری ہے تیز حرف سبھی اور سب ...

مزید پڑھیے

خوشیوں کی بوچھار کا دن

کل سے جانا ہے اسکول رہو نہ کھیلوں میں مشغول سورج دیکھو ڈوب چلا کپڑے بدلو لگ گئی دھول گزر گیا اتوار کا دن خوشیوں کی بوچھار کا دن

مزید پڑھیے

اسکول ٹیچر

اسکول کے ہمارے استاد پیارے پیارے ہم کو پڑھا رہے ہیں انساں بنا رہے ہیں کیا کیا نہیں سکھایا یوں حوصلہ بڑھایا بات ان سنی بتائی دنیا نئی دکھائی کی دور ہر برائی تہذیب بھی سکھائی کرنا نہیں لڑائی ہوتی ہے جگ ہنسائی ہوتے ہیں باپ سایہ ان سے یہ درس پایا تعلیم کا اثر ہے اونچا ہمارا سر ہے ان ...

مزید پڑھیے

اب انساں مجبور نہیں

ایسے بھی دن آئیں گے چاند نگر میں جائیں گے چھٹی کے دن میں ہم سب پکنک وہاں منائیں گے وہ دن ہرگز دور نہیں اب انساں مجبور نہیں

مزید پڑھیے

ہولی

کیا خوب آئی ہولی مستوں کی نکلی ٹولی کیا خوش گوار دن ہے اک پر بہار دن ہے اڑتا گلال دیکھو چہرے ہیں لال دیکھو پچکاریوں کے دھارے خوش رنگ ہیں نظارے جذبوں کی وہ خوشی ہے رنگوں میں جو چھپی ہے رنگوں سے تر بدن ہے رنگین پیرہن ہے سب ناچ گا رہے ہیں اودھم مچا رہے ہیں گلیوں میں گھومتے ہیں مستی ...

مزید پڑھیے

اردو

اردو زباں ہماری ہے جان و دل سے پیاری یہ مادری زباں ہے رگ رگ میں جو رواں ہے جب سے زبان کھولی اردو ہے اپنی بولی بچپن کی ہے یہ ساتھی کی اس نے ذہن سازی شیریں زباں ہے اردو چرچا ہے اس کا ہر سو اردو میں نغمگی ہے کیا اس میں دل کشی ہے اردو جو کوئی بولے کانوں میں رس یہ گھولے اردو میں پڑھنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4235 سے 5858