شاعری

تماشائی بھی ظالم ہیں

وہ ظالم جو کسی کا ظلم سہتا ہے کہ وہ ظالم جو اس پر ظلم کرتا ہے کسی مظلوم پر لاٹھی چلاتا ہے وہ جو فرعون بن کر خود کو اس مظلوم کا آقا بتاتا ہے خدا ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کرتا خدائی کی حدوں کو چھو کے آتا ہے کسی بے پیرہن کو سڑکوں پہ لاتا ہے نمائش کر کے لوگوں کو تماشا بھی دکھاتا ہے پھر اس ...

مزید پڑھیے

نثری نظم

دل تمہیں یاد کرتا ہے آ جاؤ کہ ان راستوں پر ابھی تک تیرے قدموں کے نشاں ہیں اس راستے کی دھول پاگلوں کی طرح تیری جدائی کا بین کرتی ہے آ جاؤ دل تمہیں یاد کرتا ہے وہ سایہ دار شجر وہ پھولوں کی ڈالیاں جن کے نیچے ہم نے کچھ لمحے ساتھ گزارے تھے آج بھی تیری یاد میں نم ہیں اک انمٹ سا سکوت طاری ...

مزید پڑھیے

جہیز

جہیز اک دور میں تحفہ تھا لیکن اب یہ لعنت ہے کہ جو ناسور بنتا جا رہا ہے زمانے میں اسی لعنت کا اب دستور بنتا جا رہا ہے بنت حوا کو جو سیم و زر کے دو پلڑوں میں تولا جا رہا ہے کس لیے آخر وہ بابل کیا کرے جس کی جواں بیٹی کے بالوں میں جواں سالی میں ہی چاندی اترتی جا رہی ہے اور بوڑھی ماں کی ...

مزید پڑھیے

خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے

خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے تھوڑا جھوٹا میں بھی ٹھہرا تھوڑا جھوٹا تو بھی ہے جنگ انا کی ہار ہی جانا بہتر ہے اب لڑنے سے میں بھی ہوں ٹوٹا ٹوٹا سا بکھرا بکھرا تو بھی ہے جانے کس نے ڈر بویا ہے ہم دونوں کی راہوں میں میں بھی ہوں کچھ خوف زدہ سا سہما سہما تو بھی ہے اک مدت ...

مزید پڑھیے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے وہ شخص پھر سے مرے رابطے میں آ جائے اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے کہ وہ جہت جہت سے مرے جائزے میں آ جائے کمال جب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں اور اس کا عکس مرے آئینے میں آ جائے کیا ہے ترک تعلق تو مڑ کے دیکھنا کیا کہیں نہ فرق ترے فیصلے میں آ جائے دماغ ...

مزید پڑھیے

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں سمندروں سے کہو ہم بھی پیاس رکھتے ہیں ہر ایک گام پہ روشن ہوا خدا کا گماں اسی گماں پہ یقیں کی اساس رکھتے ہیں ہم اپنے آپ سے پاتے ہیں کوسوں دور اسے وہی خدا کہ جسے آس پاس رکھتے ہیں چڑھا کے دار قناعت پہ ہر تمنا کو جو ایک دل ہے اسے بھی اداس رکھتے ...

مزید پڑھیے

یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں

یارو حدود غم سے گزرنے لگا ہوں میں مجھ کو سمیٹ لو کہ بکھرنے لگا ہوں میں چھو کر بلندیوں سے اترنے لگا ہوں میں شاید نگاہ وقت سے ڈرنے لگا ہوں میں پر تولنے لگی ہیں جو اونچی اڑان کو ان خواہشوں کے پنکھ کترنے لگا ہوں میں آتا نہیں یقین کہ ان کے خیال میں پھر آفتاب بن کے ابھرنے لگا ہوں ...

مزید پڑھیے

دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں

دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں ہائے کیا لوگ ہیں کیا خواب لیے پھرتے ہیں ہم کہاں منظر شاداب لیے پھرتے ہیں در بہ در دیدۂ خوں ناب لیے پھرتے ہیں وہ قیامت سے تو پہلے نہیں ملنے والا کس لیے پھر دل بے تاب لیے پھرتے ہیں ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا دشت وحشت میں بھی آداب لیے ...

مزید پڑھیے

دیار شب کا مقدر ضرور چمکے گا

دیار شب کا مقدر ضرور چمکے گا یہیں کہیں سے چراغوں کا نور چمکے گا کہاں ہوں میں کوئی موسیٰ کہ اک صدا پہ مری وہ نور پھر سے سر کوہ طور چمکے گا ترے جمال کا نشہ شراب جیسا ہے ہماری آنکھوں سے اس کا سرور چمکے گا بھرم جو پیاس کا رکھے گا آخری دم تک اسی کے ہاتھ میں جام طہور چمکے گا یہ کہہ کے ...

مزید پڑھیے

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا میں دل میں کسی بات کا کھٹکا نہیں رکھتا مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا کیوں قتل مجھے کر کے ڈبوتے ہو ندی میں دو دن بھی کسی لاش کو دریا نہیں رکھتا کیوں مجھ کو لہو دینے پہ تم لوگ بہ ضد ہو میں سر پہ کسی شخص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4236 سے 5858