اپنی آنکھوں کے حصاروں سے نکل کر دیکھنا
اپنی آنکھوں کے حصاروں سے نکل کر دیکھنا تو کسی دن اپنے نہ ہونے کا منظر دیکھنا اک عدم معلوم مدت سے میں تیری زد میں ہوں خود کو لمحہ بھر مرا قیدی بنا کر دیکھنا شام گہرے پانیوں میں ڈوب کر ایک بار پھر شہر کے موجود منظر کو پلٹ کر دیکھنا دیکھنا پچھلے پہر خوابوں کی اک اندھی قطار آسماں ...