شاعری

اپنی آنکھوں کے حصاروں سے نکل کر دیکھنا

اپنی آنکھوں کے حصاروں سے نکل کر دیکھنا تو کسی دن اپنے نہ ہونے کا منظر دیکھنا اک عدم معلوم مدت سے میں تیری زد میں ہوں خود کو لمحہ بھر مرا قیدی بنا کر دیکھنا شام گہرے پانیوں میں ڈوب کر ایک بار پھر شہر کے موجود منظر کو پلٹ کر دیکھنا دیکھنا پچھلے پہر خوابوں کی اک اندھی قطار آسماں ...

مزید پڑھیے

ہر نئے موڑ دھوپ کا صحرا

ہر نئے موڑ دھوپ کا صحرا کارواں ساز رہ گئے تنہا سایۂ شاخ گل سے نامانوس وہ کوئی پالتو کبوتر تھا وہ کوئی ریشمی لباس میں تھی میں کوئی پھول تھا جو مرجھایا چاندنی چار دن بہت سوئی پانچویں دن خمار ٹوٹ گیا مچھلیاں خود فریب ہوتی ہیں اک مچھیرے نہ تبصرہ لکھا واپسی اب گھروں میں نا ...

مزید پڑھیے

صلیب موجۂ آب و ہوا پہ لکھا ہوں

صلیب موجۂ آب و ہوا پہ لکھا ہوں ازل سے تا بہ ابد حرف حرف بکھرا ہوں وجود وہم مرا ہم سفر رہا دن بھر فصیل شام سے دیکھا تو سایہ سایہ ہوں سمیٹ لیں گے کسی دن نگاہ موسم کی شجر شجر پہ ابھی اپنا نام لکھتا ہوں چہار سمت گھرا ہوں میں پانیوں میں یہاں مرا یہ کرب کہ اک ڈوبتا جزیرہ ہوں ہوا کے ...

مزید پڑھیے

تعاقب

شب و روز جانے مجھے کیوں یہ احساس ہے کوئی میرے تعاقب میں بڑھتا چلا آ رہا ہے میں خود ہی ان بھاری قدموں کی آواز کے بوجھ سے دب رہا ہوں کہ میں اپنے ہی دست و بازو میں اب لمحہ لمحہ سمٹنے لگا ہوں! میں اب خود ہی میں ذرہ ذرہ بکھرنے لگا ہوں! میں اب اپنی ہمسائیگی سے بھی ڈرنے لگا ہوں! میں شاید! ...

مزید پڑھیے

کیسے منظر ہیں جو ادراک میں آ جاتے ہیں

کیسے منظر ہیں جو ادراک میں آ جاتے ہیں جیسے موتی کسی پوشاک میں آ جاتے ہیں میں جھٹکتی ہوں سبھی ذہن سے یہ وہم و گماں پھر بھی اکثر یہ مری تاک میں آ جاتے ہیں جیسا بھیجا ہے مجھے آپ نے پیغام وفا ایسے نامے تو کئی ڈاک میں آ جاتے ہیں اپنی ہستی پہ گماں اتنا نہ کیجے صاحب پیکر خاک تو پھر ...

مزید پڑھیے

خود ہی دیا جلاتی ہوں

خود ہی دیا جلاتی ہوں اپنی شام سجاتی ہوں میں ہی اپنے خوابوں کو اکثر آگ لگاتی ہوں شہر تمنا میں جا کر کتنے پھول کھلاتی ہوں تم بھی مجھ سے روٹھے ہو میں بھی کہاں مناتی ہوں اپنی اس تنہائی کو یادوں سے بہلاتی ہوں

مزید پڑھیے

حادثے ہونے لگیں تو ہم دعا کو ڈھونڈتے ہیں

حادثے ہونے لگیں تو ہم دعا کو ڈھونڈتے ہیں مسلکوں کی قید میں رہ کر خدا کو ڈھونڈھتے ہیں نوچتے ہیں ہم بدن سے خود قبائے زندگانی اور پھر ہم گمشدہ اپنی ردا کو ڈھونڈتے ہیں ہم فضا میں گھولتے ہیں زہر خود سوچوں کا اپنی سانس لینے کے لیے پھر خود ہوا کو ڈھونڈتے ہیں مصلحت کی بادبانی کشتیوں ...

مزید پڑھیے

آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے

آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی بھاگ بھری کے بھاگ اسی دن پھوٹے تھے مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئی ہم سایوں نے ہم سایے ہی لوٹے تھے شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے اوڑھ کے پھرتی ...

مزید پڑھیے

درد کی نیلی رگیں تہ سے ابھر آتی ہیں

درد کی نیلی رگیں تہ سے ابھر آتی ہیں یاد کے زخم میں چنگاریاں در آتی ہیں روز پرچھائیاں یادوں کی پرندے بن کر گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں صورتیں بنتی ہیں چاہت کی یہ کس مٹی سے بارہا مٹ کے بھی یہ بار دگر آتی ہیں اودے اودے سے صفورے کی گھنی ٹہنیوں سے یاد کی سرمئی کرنیں سی گزر ...

مزید پڑھیے

مری خامشی میں بھی اعجاز آئے

مری خامشی میں بھی اعجاز آئے کہیں سے کوئی مجھ کو آواز آئے وہ چہرہ نہ جانے کہاں کھو گیا ہے وہ جس سے لہو میں تگ و تاز آئے نکالا کسی نے نہ پتھر سے باہر مرے شہر میں روز بت ساز آئے اڑے نیلی نیلی رگوں سے نکل کر مرے درد میں ذوق پرواز آئے سزا بے گناہی کی میں کاٹتی ہوں مجھے زندگی کے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4221 سے 5858