خود ہی دیا جلاتی ہوں فرح اقبال 07 ستمبر 2020 شیئر کریں خود ہی دیا جلاتی ہوں اپنی شام سجاتی ہوں میں ہی اپنے خوابوں کو اکثر آگ لگاتی ہوں شہر تمنا میں جا کر کتنے پھول کھلاتی ہوں تم بھی مجھ سے روٹھے ہو میں بھی کہاں مناتی ہوں اپنی اس تنہائی کو یادوں سے بہلاتی ہوں