شاعری

درد کی نیلی رگیں یادوں میں جلنے کے سبب

درد کی نیلی رگیں یادوں میں جلنے کے سبب ساری چیخیں روک لیتی ہیں سنبھلنے کے سبب درد کی نیلی رگیں تو شور کرتی ہیں بہت پیکر نازک میں اس دل کے مچلنے کے سبب درد کی نیلی رگیں برفاب بستر میں پڑی ٹوٹ جاتی ہیں ترے خوابوں میں چلنے کے سبب درد کی نیلی رگیں عمروں کے نیلے پھیر کو زرد کرتی ...

مزید پڑھیے

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روئی کیوں ہے موسم اس نے تو نشہ بار ذرا کرنا تھا تلخ لمحے نہیں دیتے ہیں کبھی پیاسوں کو سانس کے ساتھ نہ زہراب روا کرنا تھا کس قدر غم ہے یہ شاموں کی خنک رنگینی مجھ کو لو سے کسی چہرے ...

مزید پڑھیے

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں نئے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے تمہارے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں اسے جو دھوپ لئے دل کے گاؤں میں اترا رہٹ سے چاہ کا پانی پلانے والی ہوں کہو کہ چھاؤں مری خود سمیٹ لے آ کر میں اب گھٹا کا پراندہ ہلانے والی ...

مزید پڑھیے

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر اک غزل تم بھی مرے نام ...

مزید پڑھیے

مثال برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں

مثال برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں ہوائے تند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں وہ جن کی آنکھوں میں ہوتا ہے زندگی میں ملال اسی قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں جہاں کے بند ہیں صدیوں سے مجھ پہ دروازے میں ایک بار اسی گھر میں جانا چاہتی ہوں ستم شعار کی چوکھٹ پہ عدل کی زنجیر برائے دادرسی اب ...

مزید پڑھیے

یوں حجرۂ خیال میں بیٹھا ہوا ہوں میں

یوں حجرۂ خیال میں بیٹھا ہوا ہوں میں گویا مرا وجود نہیں واہمہ ہوں میں پھیلا ہے جب سے گھر میں سمندر سکوت کا بے چارگی کی چھت پہ کھڑا چیختا ہوں میں دیکھو مری جبیں پہ مرے عہد کے نقوش رکھو مجھے سنبھال کے اک آئنہ ہوں میں اب تک شب قیام کا اک سلسلہ بھی تھا اب آفتاب بن کے سفر پر چلا ہوں ...

مزید پڑھیے

قربتیں بڑھ گئی نگاہوں کی

قربتیں بڑھ گئی نگاہوں کی اب حدیں ختم ہیں لباسوں کی دھوپ روکے کھڑی ہے کس کے لئے یہ سر رہ قطار پیڑوں کی اور پھیلے گا آگ کا دریا اور جھلسے گی کھال چہروں کی خودکشی کا سفر بھی سہل نہیں بھیڑ سی ہے لگی سوالوں کی کون خود میں سمو سکا ہے کبھی وسعتیں لا زوال لمحوں کی کب سے دہرا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے

زندگی چپکے سے اک بات کہا کرتی ہے وقت کے ہاتھوں میں کب ڈور رہا کرتی ہے سرد سی شاموں میں چلتی ہے اداسی کی ہوا چاندنی رات بھی خاموش رہا کرتی ہے تم تو آئے ہو گلابوں کے لیے دیر کے بعد قریۂ جاں میں تو اب خاک اڑا کرتی ہے بے سبب آنکھوں میں آنسو بھی نہیں آتے اب وحشت دل بھی کہیں دور رہا ...

مزید پڑھیے

درد کا سمندر ہے صرف پار ہونے تک

درد کا سمندر ہے صرف پار ہونے تک عشق کی حقیقت کے آشکار ہونے تک روز و شب کی گردش میں محو رقص رہتے ہیں خاک کے بگولے ہیں بس غبار ہونے تک خواہشوں کی خوشبو میں خواب خواب پھرتے تھے پالکی میں تاروں کی ہم سوار ہونے تک قربتوں کے جنگل میں دیر کتنی لگتی ہے پیرہن محبت کا تار تار ہونے تک سوچ ...

مزید پڑھیے

جیسے خوشیوں میں غم نہیں ہوتے

جیسے خوشیوں میں غم نہیں ہوتے آگ پانی بہم نہیں ہوتے مدتوں ہم قریب رہتے ہیں فاصلے پھر بھی کم نہیں ہوتے زندگی بھر کے ساتھ میں اکثر ہم سفر ہم قدم نہیں ہوتے سانحے دل پہ جو گزرتے ہیں سب کے سب تو رقم نہیں ہوتے پوجا ہوتی ہے زندگی بھر کی چار دن کے صنم نہیں ہوتے جو کبھی مجھ پہ دوستوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4222 سے 5858