شاعری

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں جہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر قیامت پر قیامت ڈھا رہا ...

مزید پڑھیے

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں اف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام بہلائیں تجھ سے چھٹ کے طبیعت کہاں کہاں فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے تیرا اثر ہے اے غم فرقت کہاں کہاں ہر جنبش نگاہ میں صد کیف بے خودی بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں راہ ...

مزید پڑھیے

یہ نہیں کثرت آلام سے جل جاتے ہیں

یہ نہیں کثرت آلام سے جل جاتے ہیں دل تمنائے خوش انجام سے جل جاتے ہیں ان سے پوچھے کوئی مفہوم حیات انساں مقبروں میں جو دیئے شام سے جل جاتے ہیں ذکر آتا ہے مرا اہل محبت میں اگر میرے احباب مرے نام سے جل جاتے ہیں شمع جلتی ہے تو رو دیتی ہے سوز غم سے اور پروانے تو آرام سے جل جاتے ...

مزید پڑھیے

بعد مدت کے خیال مے و مینا آیا

بعد مدت کے خیال مے و مینا آیا زندگی پھر مجھے جینے کا قرینہ آیا ہر نفس زیست کے ماتھے پہ پسینہ آیا یہ بھی جینا ہے کہ ایسا ہمیں جینا آیا کتنے پہلو نظر آ جائیں نہ جانے دل کے آئنہ ساز کے ہاتھوں میں نگینہ آیا پھر سر بزم کوئی جام بکف آتا ہے ترک توبہ کے تصور پہ پسینہ آیا تہمت بادہ ...

مزید پڑھیے

دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو

دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو دین کی راہ میں ہنگامۂ دنیا رکھ دو ظلم کے سامنے اخلاص کا پردہ رکھ دو نوک ہر خار پہ برگ گل رعنا رکھ دو اپنی تاریخ کے اوراق الٹنا ہیں اگر گلشن عیش پہ تپتا ہوا صحرا رکھ دو جس سے وابستہ رہے ڈوبنے والے کی امید ایک تنکا ہی سہی تم لب دریا رکھ دو تم جو ...

مزید پڑھیے

نئے جہاں میں پرانی شراب لے آئے

نئے جہاں میں پرانی شراب لے آئے اندھیری رات میں ہم آفتاب لے آئے مرے یقین میں گنجائش دلیل نہیں جواز ڈھونڈنے والے کتاب لے آئے پڑے تھے ایک ہی عالم میں اہل مے خانہ شکست جام سے ہم انقلاب لے آئے وہ کامیاب محبت ہیں جو ترے در سے خود اپنے آپ کو نا کامیاب لے آئے تمام عمر جو چھایا رہے گا ...

مزید پڑھیے

کرم کے نام پہ ان کا عتاب چاہتے ہیں

کرم کے نام پہ ان کا عتاب چاہتے ہیں نگاہ شوق کو ہم کامیاب چاہتے ہیں سکون دل میں غم و اضطراب چاہتے ہیں ہم ایسے لوگ بھی کیا انقلاب چاہتے ہیں چمن میں عہد بہاراں کی آرزو کر کے قفس نصیب قفس پر عذاب چاہتے ہیں یہ آزمائش قلب و نظر معاذ اللہ تمہارے جلوے کو ہم بے نقاب چاہتے ہیں مجھے رقیب ...

مزید پڑھیے

حسن فطرت کے امیں قاتل کردار نہ بن

حسن فطرت کے امیں قاتل کردار نہ بن شہرت غم کے لئے رونق بازار نہ بن تارک رسم وفا اور گنہ گار نہ بن محرم عشق ہے تو محرم اسرار نہ بن اپنی گردن پہ مچلتی ہوئی تلوار نہ بن ننگ ایماں ہی سہی صورت انکار نہ بن بد گمانی کو مری اور بڑھا دیتا ہے ان کا یہ کہنا کہ دامن کش اغیار نہ بن رہرو منزل ...

مزید پڑھیے

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید خیال ذہن میں زنجیر بن گیا شاید وہ ایک نام جو تم نے مٹا دیا ہے ابھی جبین وقت پہ تحریر بن گیا شاید مری نگاہ میں نا معتبر تھا جس کا وجود وہ فاصلہ مری تقدیر بن گیا شاید خود اپنا چہرہ بھی اب تو نظر نہیں آتا ہر آئنہ تری تصویر بن گیا شاید رہ خلوص میں فطرت ...

مزید پڑھیے

ذوق نظر کو جلوۂ بے تاب لے گیا

ذوق نظر کو جلوۂ بے تاب لے گیا تعبیر کے نشاط کو اک خواب لے گیا موج‌ سبک خرام کی تحریک ہی تو تھا وہ حوصلہ جو مجھ کو تہہ آب لے گیا سر ان کی بارگاہ میں جھک تو گیا مگر دل آبروئے منبر و محراب لے گیا نغمات دل فضا میں بکھرنے نہ پائے تھے تار نفس کو صدمۂ مضراب لے گیا دل ارتقائے ذہن کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4165 سے 5858