شاعری

جس میں نہ خوشی ہو وہ محبت نہیں اچھی

جس میں نہ خوشی ہو وہ محبت نہیں اچھی کلفت سے جو خالی ہو وہ راحت نہیں اچھی کہتا ہے حسینوں کی محبت نہیں اچھی اور ناصح کم فہم یہ عادت نہیں اچھی تم پر جو نہ آ جائے تو وہ دل نہیں اچھا تم پر جو نہ مائل ہو طبیعت نہیں اچھی بے دل لئے دیتے ہو جو تم غیروں کو بوسے نقصان ہے اس میں یہ مروت نہیں ...

مزید پڑھیے

دل مرا جب تک کسی کے حسن پر مائل نہ تھا

دل مرا جب تک کسی کے حسن پر مائل نہ تھا زندگی میں زندگی کا لطف کچھ حاصل نہ تھا میرے حصے کا کوئی ساغر سر محفل نہ تھا تیرے مے نوشوں میں ساقی کیا میں اس قابل نہ تھا جاں بہ لب محفل میں ان کی میں نہ تھا یا دل نہ تھا کون تھا جو ان کے تیر ناز کا گھائل نہ تھا اک نظر ملتے ہی ان کا ہو گیا کیا ...

مزید پڑھیے

تو اگر بے نقاب ہو جاتا

تو اگر بے نقاب ہو جاتا تو ہر اک فیضیاب ہو جاتا تارے سب ماہتاب ہو جاتے ماہتاب آفتاب ہو جاتا لکھتے دیوان میں جو وصف رخ ہر ورق آفتاب ہو جاتا تو بتاتا جو راہ مے خانہ شیخ کار ثواب ہو جاتا امتحاں لیتے ہیں وہ مقتل میں پہلے میں انتخاب ہو جاتا تھی ہوائے خودی بھری اس میں کیوں نہ بے خود ...

مزید پڑھیے

وصل میں پھیر کے منہ ہائے کسی کا کہنا

وصل میں پھیر کے منہ ہائے کسی کا کہنا ہم نہ مانیں گے نہ مانیں گے کسی کا کہنا ایک دشمن ہے کہ تم سنتے ہو اس کا کہنا ایک میں ہوں کبھی ہوتا نہیں میرا کہنا دل ربا کہتا ہے اے یار دلارا کہنا ایک تو نام ہیں دو پھر تجھے کیا کیا کہنا ہم مناتے ہیں تمہیں بہر خدا من جاؤ مان لو مان لو اے جان ...

مزید پڑھیے

تیری تصویر کو تسکین جگر سمجھے ہیں

تیری تصویر کو تسکین جگر سمجھے ہیں تیرے دیدار کو ہم ذوق نظر سمجھے ہیں قہر کی آنکھوں سے تم نے ہمیں جب بھی دیکھا ہم اسے عین محبت کی نظر سمجھے ہیں ہے یہی ان کا سمجھنا تو خدا حافظ ہے طالب خیر کو وہ بانئ شر سمجھے ہیں ان کی مانند کوئی صاحب ادراک کہاں جو فرشتے نہیں سمجھے وہ بشر سمجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4154 سے 5858