آ جا کہ کھڑی ہے شام پردا گھیرے
آ جا کہ کھڑی ہے شام پردا گھیرے مدت ہوئی جب ہوئے تھے درشن تیرے مغرب سے سنہری گرد اٹھی سوئے قاف سورج نے اگنی رتھ کے گھوڑے پھیرے
آ جا کہ کھڑی ہے شام پردا گھیرے مدت ہوئی جب ہوئے تھے درشن تیرے مغرب سے سنہری گرد اٹھی سوئے قاف سورج نے اگنی رتھ کے گھوڑے پھیرے
قامت ہے کہ انگڑائیاں لیتی سرگم ہو رقص میں جیسے رنگ و بو کا عالم جگمگ جگمگ ہے شبنمستان ارم یا قوس قزح لچک رہی ہے پیہم
وہ چہرہ ستا ہوا وہ حسن بیمار بے چینی کی روح کو بھی آتا تھا پیار دیکھا ہے کرب کے بھی عالم میں تجھے ہوتا تھا سکون لاکھ جانوں سے نثار
جس طرح رگوں میں خون صالح ہو رواں جس طرح حیات کا ہے مرکز رگ جاں جس طرح جدا نہیں وجود و موجود کچھ اس سے زیادہ قرب اے جان جہاں
دوشیزۂ بہار مسکرائے جیسے موج تسنیم گنگنائے جیسے یہ شان سبک روی یہ خوشبوئے بدن بل کھاتی ہوئی نسیم گائے جیسے
عیسیٰؔ کے نفس میں بھی یہ اعجاز نہیں تجھ سے چمک اٹھتی ہے عناصر کی جبیں اک معجزۂ خموش طرز رفتار اٹھتے ہیں قدم کہ سانس لیتی ہے زمیں
یہ راز و نیاز اور یہ سماں خلوت کا یہ آنکھ میں آنکھ ڈال دینا تیرا ہرنی ہے ڈری ڈری سی اور کچھ مانوس یہ نرم جھجک سپردگی کی یہ ادا
آنکھیں ہیں کہ پیغام محبت والے بکھری ہیں لٹیں کہ نیند میں ہیں کالے پہلو سے لگا ہوا ہرن کا بچہ کس پیار سے ہے بغل میں گردن ڈالے
بن باسیوں میں جلوۂ گلشن لے کر تاریکیوں میں شعلہ ایمن لے کر وہ ہنستی ہوئی روپ کی دیوی آئی کانٹوں میں کھلے پھول سا جوبن لے کر
کھلتا ہی نہیں حسن ہے پنہاں کہ عیاں دیکھے تجھے کیسے کوئی اے جان جہاں بندھ جاتا ہے اک جلوہ و پردہ کا طلسم یہ غیب و شہود آنکھ مچولی کا سماں