شاعری

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے (ردیف .. ی)

یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہے خطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گی جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے اندھی وطن پرستی ہم کو اس رستے لے جائے گی اندھے کنویں میں جھوٹ کی ناؤ تیز چلی تھی مان لیا لیکن باہر روشن دنیا تم ث سچ بلوائے گی نفرت میں جو پلے بڑھے ہیں نفرت ...

مزید پڑھیے

گر ٹوٹ گئے تو ہار گئے

جب میرے وطن کی گلیوں میں ظلمت نے پنکھ پسارے تھے اور رات کے کالے بادل نے ہر شہر میں ڈیرا ڈالا تھا جب بستی بستی دہک اٹھی یوں لگتا تھا سب راکھ ہوا یوں لگتا تھا محشر ہے بپا اور رات کے ظالم سائے سے بچنے کا کوئی یارا بھی نہ تھا صدیوں میں تراشا تھا جس کو انسان کے انتھک ہاتھوں نے تہذیب کے ...

مزید پڑھیے

صبح

سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہے سویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تک ہمارے پاؤں پہ رکھے گا بھیگے بھیگے پھول کہے گا اٹھو کہ اب تیرگی کا دور گیا بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں کرنے ہیں انہیں سمیٹ کے راہیں نئی تلاش کرو نہیں یقین کرو یوں کبھی نہیں ہوتا سویرا اٹھ کے دبے پاؤں خود نہ آئے ...

مزید پڑھیے

میری تلوار ہے یہ میرا قلم

ایک نظم ایک غزل الجھا الجھا سا کوئی شعر کہیں ایک افسانہ کہانی یا کوئی ایک کتاب کوئی تصویر کوئی خاکہ کوئی ایک خیال دل کے ایک کونے میں کہیں کلیوں کے چٹکنے کی صدا صبح دم اس میں بھیگے ہوئے پھولوں کی مہک دور دھندھلائے ہوئے رنگوں کے پردے سے پرے ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے نغموں کی صدا گہری ...

مزید پڑھیے

شدت پسند

مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سے کوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کا مجھے یقیں تھا کہ ان کا مذہب ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر مجھے یقیں تھا وہ لا مذہب ہیں یا ان کے مذہب کا نام ہرگز سوائے شدت کے کچھ نہیں ہے مگر اے ہمدم یقیں تمہارا جو ڈگمگایا تو کتنے انساں جو ہم وطن تھے جو ہم سفر تھے جو ہم نشیں تھے وہ ...

مزید پڑھیے

پہنچ کر شب کی سرحد پر اجالا ڈوب جاتا ہے

پہنچ کر شب کی سرحد پر اجالا ڈوب جاتا ہے نہ ہو جس کا کوئی وہ بے سہارا ڈوب جاتا ہے جسے گاتا ہے کوئی بربط صد چاک داماں پر فضائے بے یقینی میں وہ نغمہ ڈوب جاتا ہے یہاں تو دل کی باتیں ہیں ہمارا تجربہ ہے یہ جو سطح آب پر رکھیے تو پیسہ ڈوب جاتا ہے تعلق دیر سے مضبوط کرتا ہے جڑیں اپنی ذرا سی ...

مزید پڑھیے

ہنسی نصیب نہیں ہے خوشی نصیب نہیں

ہنسی نصیب نہیں ہے خوشی نصیب نہیں وہ جب سے روٹھ گئے زندگی نصیب نہیں ہر ایک گل ہے پریشاں ہر اک کلی ہے اداس بہار میں بھی انہیں تازگی نصیب نہیں نظر کے سامنے ہے ان کا سنگ در پھر بھی مری جبیں کو مگر بندگی نصیب نہیں پلا رہا ہوں ہزاروں کو اپنے ہاتھوں سے ہوں میکدے میں مگر مے کشی نصیب ...

مزید پڑھیے

اک صداقت ہے بے رگ و بے پے

اک صداقت ہے بے رگ و بے پے تیری مٹھی میں بند ہے جو شے میرے منہ پر گلال ملتا ہے بولتا کیوں نہیں لہو کی جے ناچتا ہے کہ لرزہ بر اندام کوئی سر تال ہے نہ کوئی لے ہو سکے تو سمیٹ کر رکھ لے میرے سائے سے اور اتنا بھیے کس لئے تیرے میرے بیچ اب تک دوستی کی خلیج حائل ہے

مزید پڑھیے

کبھی خاک میں لاش ڈھک جائے گی

کبھی خاک میں لاش ڈھک جائے گی اندھیرے میں ہڈی چمک جائے گی مرا حشر یہ ہے کہ اک چھپکلی مرے ذہن سے ہی چپک جائے گی کوئی راہ پائے نہ پائے مگر ہوا پانیوں کو تھپک جائے گی نہ وہ مجھ سے اتنا قریب آئے گا نہ میری صدا دور تک جائے گی قدم جتنا آگے ہے پیچھے بھی ہے خود اپنے ہی اندر سڑک جائے ...

مزید پڑھیے

وہاں ہر آدمی چکرا گیا ہے

وہاں ہر آدمی چکرا گیا ہے جہاں سے راستہ بل کھا گیا ہے کوئی اک پل میں غائب ہو چکا ہے کسی کو دیر تک سوچا گیا ہے کہیں پر شور آوازوں کا جنگل کہیں تا دور سناٹا گیا ہے اب اتنا تو ہواؤں میں نہ پھینکو کبھی پتھر بھی واپس آ گیا ہے ہے ذکر اپنی ہی شوریدہ سری کا کہ آخر آج اسے ہو کیا گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4096 سے 5858