شاعری

شرارہ صفت سرد آہوں میں تھا

شرارہ صفت سرد آہوں میں تھا مرا میں مری اپنی بانہوں میں تھا ہواؤں سے کیا نشر ہوتا کہ جو صداؤں کی صورت نگاہوں میں تھا وہاں سے اڑا آنکھ میں بھر گیا جہاں گرد میں تیری راہوں میں تھا کبھی سوچ لینا عبث تو نہیں مزا درد کا جن کراہوں میں تھا ترے تھرتھراتے لبوں کے نثار عجب غل سماعت ...

مزید پڑھیے

ہر شخص کو حیرت کی تصویر بنا دے گا

ہر شخص کو حیرت کی تصویر بنا دے گا اب کیا کسی پیکر کو آئینہ جلا دے گا رجعت بھی کرے گا تو ٹھہرا ہوا سیارہ سورج کی محبت میں گھر اپنا جلا دے گا کم بخت کو اتنا بھی احساس نہیں شاید جینے کے لئے اپنے اوروں کو دعا دے گا کچھ یاد نہیں مجھ کو میں کون ہوں کیسا ہوں کیا کوئی مجھے میری پہچان بتا ...

مزید پڑھیے

عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے

عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے مرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں کہاں کہاں وہ جبین طلب جھکائیں گے عطش عطش کی صدائیں اٹھی سمندر سے تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے چھپا کے رکھ ...

مزید پڑھیے

دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے

دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے یار کہیں برسات غموں کی ہوتی ہے بے چینی میں ڈوبے جبہ اور دستار فاقہ مستی چادر تان کے سوتی ہے پیار محبت رشتے ناطے پیر فقیر دیکھ غریبی کیا کیا دولت کھوتی ہے تیرا چہرہ دن کا دریا پار کرے رات کی ساری ہلچل تجھ سے ہوتی ہے جس کو ماجھی سمجھا اس کی ملاحی ساحل ...

مزید پڑھیے

اک خلش ہے مرے باہر مری دم ساز گری

اک خلش ہے مرے باہر مری دم ساز گری کس بلندی پہ تھی جس دم مری پرواز گری میری دہلیز پہ رکھا ہے کچھ انگاروں سا میرے آنگن میں بھی جھلسی ہوئی آواز گری کسی اعزاز پہ اب سکۂ‌ دل کیا اچھلے اس تواتر سے میاں قیمت اعزاز گری اب بھلا کون کرے چاک گریبان جنوں عظمت زلف گھٹی چشم کنول ناز گری عشق ...

مزید پڑھیے

کب سے بنجر تھی نظر خواب تو آیا

کب سے بنجر تھی نظر خواب تو آیا شکر ہے دشت میں سیلاب تو آیا روشنی لے کے عقیدوں کے کھنڈر میں مکر اوڑھے سہی مہتاب تو آیا کشتیٔ جاں کو یہ تسکین بہت ہے خیریت پوچھنے گرداب تو آیا دولت عشق گنوا کر سہی امجدؔ فہم میں نکتۂ آداب تو آیا

مزید پڑھیے

ابھی آئنہ مضمحل ہے

ابھی کچھ خراشیں ہیں چہرے پہ میرے ابھی وقت کے سخت ناخن کی یادیں ستاتی ہیں مجھ کو ڈراتی ہیں مجھ کو میاں موم خوابوں کی میرے پگھلتی نہ کیسے مری سمت سورج اچھالا گیا تھا میں شعلوں کی دلدل میں دھنسنے لگا تھا مرے دست و پا سب جھلسنے لگے تھے بہت شور مجھ میں اٹھا تھا ہر اک شے سماعت سے ...

مزید پڑھیے

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی

پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی سر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہی دانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر اپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی پھر لگی رہنے تصور میں وہ مژگان دراز رگ جاں میں خلش خار تمنا ہے وہی پھر لگا رہنے وہی سلسلۂ ناز و نیاز جلوۂ حسن وہی ذوق تماشا ہے وہی پھر ہوا ...

مزید پڑھیے

خوشبو

میں کرب میں مبتلا تھی زندگی کی اذیتوں سے دو چار زندگی کے فاصلے اور موت کے قریب میں اپنی رگوں کی قیدی اپنے دکھوں کے حصار میں تھی زندگی سے دور ہوتی رہی تھی کہ میرے جسم میں ایک تناؤ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ میرے جسم کا ایک حصہ بن گیا میری پہچان میرے پیار کی تخلیق میرے خون کا ...

مزید پڑھیے

پرانے جوتے

گردش افلاک کے مارے ہوئے جوتے تمام اک سڑک کے موڑ پر رکھے تھے با صد اہتمام ان پہ ٹوٹے پڑ رہے تھے مفلسان خاص و عام میں نے بھی گردن بڑھا کے پوچھے ان میں اک کے دام بولا مدت بعد ان جوتوں کا اب اٹھا ہے پال اور ان جوتوں میں ہر جوتا ہے آپ اپنی مثال ایک جوتا ان میں تھا جو تجربوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4097 سے 5858