ردائے راحت کون و مکان اوڑھ کے دیکھ
ردائے راحت کون و مکان اوڑھ کے دیکھ زمین اوڑھ کے دیکھ آسمان اوڑھ کے دیکھ طلسم ٹوٹ چکا جب چراغ ظلمت کا کبھی صباحت نام و نشان اوڑھ کے دیکھ پڑا رہے گا کہاں تک تو اپنے ترکش میں خدنگ جستہ اگر ہے کمان اوڑھ کے دیکھ قریب آ ہی گیا ہے اگر وہ ابر کرم سفر میں آج یہی سائبان اوڑھ کے ...