چراغ خانۂ دل کو سپرد باد کر دوں
چراغ خانۂ دل کو سپرد باد کر دوں یہ قیدی بھی کسی کے نام پر آزاد کر دوں بہت ہم سے گریزاں یہ زمین و آسماں ہیں اجازت ہو تو اک دنیا نئی آباد کر دوں جدھر نکلوں سواد ہجر ہی کا سامنا ہے کوئی صورت یہاں بھی وصل کی ایجاد کر دوں مرے مایوس رہنے پر اگر وہ شادماں ہے تو کیوں خود کو میں اس کے ...