شاعری

چراغ خانۂ دل کو سپرد باد کر دوں

چراغ خانۂ دل کو سپرد باد کر دوں یہ قیدی بھی کسی کے نام پر آزاد کر دوں بہت ہم سے گریزاں یہ زمین و آسماں ہیں اجازت ہو تو اک دنیا نئی آباد کر دوں جدھر نکلوں سواد ہجر ہی کا سامنا ہے کوئی صورت یہاں بھی وصل کی ایجاد کر دوں مرے مایوس رہنے پر اگر وہ شادماں ہے تو کیوں خود کو میں اس کے ...

مزید پڑھیے

شگفت آب سے مٹی کو آئنہ کرتے

شگفت آب سے مٹی کو آئنہ کرتے چراغ سرد نہ ہوتے تو زمزمہ کرتے بہت سے رنگ بھی رکھتے ہیں طاقت پرواز ہوا میں صرف پرندے نہیں اڑا کرتے اثر نہ لیجئے اس گرم و سرد کا دل پر کہ شور و شر سے پریشاں نہیں ہوا کرتے بندھے ہوئے تھے مرے ہاتھ بھی تمہاری طرح وفا سرشت میں ہوتی تو ہم وفا کرتے زمین ...

مزید پڑھیے

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے ممکن ہے میرے صبر کی دیوار گر پڑے کیا خوب سرخ رو ہوئے ہم کار عشق میں دو چار کام آ گئے دو چار گر پڑے اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب ہاتھ سے پتوار گر پڑے روشن کوئی چراغ نہیں نخل طور پر سجدے میں کس کو دیکھ کے اشجار گر پڑے کرتی ہے فرش خاک کو ...

مزید پڑھیے

ابھی شب ہے مئے الفت انڈیلیں

ابھی شب ہے مئے الفت انڈیلیں مگر دن میں گھروں کے راستے لیں چلو رک جائیں بہر‌ دید ہم بھی دریچے پر جھکی جاتی ہیں بیلیں خدایا کاش یہ ہیرے سی آنکھیں محبت کی کڑی بازی نہ کھیلیں ارادہ ہے نہ پہچانیں اسے ہم تمنا کو یہ ضد باہوں میں لے لیں بہت عرصہ رہے ہیں ساتھ اس کے سو اب تنہائی بھی کچھ ...

مزید پڑھیے

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا کہ آزمانے چلا ہے مجھے خدا میرا مرے طلسم سے آزاد بھی نہیں لیکن وہ پھول پہلی نظر میں ہوا نہ تھا میرا نعیم بصرہ و بغداد ہارنے کے بعد مرا وجود بھی شاید نہیں رہا میرا وہ میرے پاس رہے یا کہیں چلا جائے رہے گا اس کے خیالوں سے سلسلہ میرا کسی کی کھوج میں ...

مزید پڑھیے

کبھی چراغ کبھی راستہ بدل کر دیکھ

کبھی چراغ کبھی راستہ بدل کر دیکھ بہت قریب ہے منزل ذرا سا چل کر دیکھ ترے حصار سے باہر نہیں زمان و مکاں تو میری طرح کسی آئنے میں ڈھل کر دیکھ فقیر بن کے وہ آیا ہے تیری چوکھٹ پر یہ کوئی اور نہیں ہے ذرا سنبھل کر دیکھ نگار خانۂ گردوں کو راکھ کرتے ہوئے ذرا سی دیر کسی طاقچے میں جل کر ...

مزید پڑھیے

اک شمع کی صورت میں منظور کیا جاؤں

اک شمع کی صورت میں منظور کیا جاؤں اک گھر کی حفاظت پر مامور کیا جاؤں اپنے سے بچھڑنے کی کچھ فکر نہیں لیکن ایسا نہ ہو اس سے بھی اب دور کیا جاؤں اک یاد سے مس ہو کر زنجیر پگھل جائے اک گل کی محبت سے مخمور کیا جاؤں ایسا نہ ہو دنیا کی وسعت سے نکلتے ہی اپنے میں سمٹنے پر مجبور کیا جاؤں اے ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح

جہاں میں ڈالتے رہتے ہیں ماسوا کی طرح درخت چل نہیں سکتے مگر ہوا کی طرح بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو ادھر دنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح مرے حصار سے باہر بھی وہ نہیں رہتا مرے قریب بھی آتا نہیں خدا کی طرح بہت سے رنگ اترتے ہیں میری آنکھوں میں کسی کے دھیان میں الجھی ہوئی صدا کی ...

مزید پڑھیے

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں

رکا ہوں کس کے وہم میں مرے گمان میں نہیں چراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں وہ طائر نگاہ بھی سفر میں ساتھ ہے مرے کہ جس کا ذکر تک ابھی کسی اڑان میں نہیں مری طلب مرے لیے ملال چھوڑ کر گئی جو شے مجھے پسند ہے وہی دکان میں نہیں کوئی عجیب خواب تھا اگر میں یاد کر سکوں کوئی عجیب بات تھی ...

مزید پڑھیے

مل گئی ہے بادیہ پیمائی سے منزل مری

مل گئی ہے بادیہ پیمائی سے منزل مری کام آئی ہے بالآخر سعئ لا حاصل مری پاؤں دھرنے کو میسر آ نہیں پاتی زمیں ناؤ رک جاتی ہے آ کر جب لب ساحل مری اک کمی میری تگ و دو میں کہیں موجود ہے ہو نہیں پائی ابھی تک کوئی شے کامل مری مل نہیں پاتی خود اپنے آپ سے فرصت مجھے مجھ سے بھی محروم رہتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4086 سے 5858