بیٹھے ہیں عید کو سب یار بغل میں لے کر
بیٹھے ہیں عید کو سب یار بغل میں لے کر بیٹھیں ہم کیا دل بیمار بغل میں لے کر کشتۂ ناز فقط اس پہ ہیں نازاں جی میں کہ نکلتا ہے وہ تلوار بغل میں لے کر روئے ہم اس کی تمنائے ہم گوشی میں دل مایوس کو ناچار بغل میں لے کر بد گمانی سے ہمیں بیٹھتے اٹھتے ہے یہ سوچ بیٹھے ہوں گے اسے اغیار بغل میں ...