شاعری

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے

خدائے برتر نے آسماں کو زمین پر مہرباں کیا ہے مگر مرے خواب کے نگر کو چراغ نے خوش گماں کیا ہے سنو کہ میں نے دھری ہے سطح رواں پہ اک ڈولتی عمارت اور ایک شمع طرب کو شہر ملال کا پاسباں کیا ہے مجھے یقیں ہے یہ صبح نو بھی مرے ستارے کا ساتھ دے گی کہ میں نے اک اسم کی مدد سے غبار کو آسماں کیا ...

مزید پڑھیے

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو بہائے جا رہی ہے روشنی کی لہر پانی کو مجھے بھی سرخ کرتی ہے یہ مشعل میری آنکھوں کی کہ جیسے سبز کرتا ہے ضیا کا زہر پانی کو کسی بے نام سیارے پہ اب بھی ابر چھایا ہے ترستا ہے کئی دن سے اگرچہ دہر پانی کو بہت اترا رہی ہے موج صحرا اپنے ہونے پر رواں ...

مزید پڑھیے

آئنے میں عکس کھلتا ہے گل حیرت نہیں

آئنے میں عکس کھلتا ہے گل حیرت نہیں لوگ سچ کہتے ہیں آنکھوں سی کوئی نعمت نہیں اب بہر صورت سر میداں اترنا ہے مجھے کارزار عشق سے پسپائی کی صورت نہیں اس کے ہونے سے ہوئی ہے اپنے ہونے کی خبر کوئی دشمن سے زیادہ لائق عزت نہیں سیر کرنا چاہتا ہوں میں جہاں آباد کی اور رک کر دیکھ لینے کی ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساتھ خدا ہو کہ ہم خدا کے ساتھ

ہمارے ساتھ خدا ہو کہ ہم خدا کے ساتھ مگر رہے یہی وابستگی دعا کے ساتھ کشید کرتے ہوئے راحت وجود و عدم دیے کے ساتھ رہوں گا نہ میں ہوا کے ساتھ نئے گلاب کریں گے مکالمہ کس سے نکل پڑوں گا چمن سے اگر صبا کے ساتھ چھلک نہ جائے کہیں ساغر متاع ہوش رہوں گا آج کسی درد آشنا کے ساتھ فشار ضبط سے ...

مزید پڑھیے

جب طلسم قفل ابجد کھل گیا

جب طلسم قفل ابجد کھل گیا حاصل گفتار سرمد کھل گیا ٹوٹ کر آئی ہے اس گل پر بہار جسم لو دینے لگا قد کھل گیا صبح لائی ہے رہائی کی نوید آسماں کھلتے ہی گنبد کھل گیا کارزار عشق میں آنے کے بعد رنگ میراث اب و جد کھل گیا خود بخود آیا ہے لب پر اس کا نام روح پر عنوان ارشد کھل گیا ریگ صحرا لے ...

مزید پڑھیے

زمیں روشن رہے گی آسماں روشن رہے گا

زمیں روشن رہے گی آسماں روشن رہے گا مری موجودگی سے یہ مکاں روشن رہے گا میسر آ گئی آسودگی جب اس نگر کو چھتوں پر رنگ صحنوں میں دھواں روشن رہے گا کھلے گی ایک دن سب پر حقیقت آئنے کی طلسم خواب سے سارا جہاں روشن رہے گا اسے محفوظ رکھنے کی نکالوں کوئی صورت کہ میرے بعد یہ منظر کہاں روشن ...

مزید پڑھیے

اپنے اپنے لہو کی اداسی لیے ساری گلیوں سے بچے پلٹ آئیں گے

اپنے اپنے لہو کی اداسی لیے ساری گلیوں سے بچے پلٹ آئیں گے دھوپ کی گرم چادر سمٹتے ہی پھر یہ سنہری پرندے پلٹ آئیں گے شام آئی ہے اور ساعتوں کے قدم پانیوں کی روانی میں رکنے لگے کون کہتا ہے ان بادلوں سے پرے آسماں پر ستارے پلٹ آئیں گے یہ دریچے اسی طرح روشن رہیں اور گلابوں کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

کبھی مکاں کی طرف ہے کبھی مکیں کی طرف

کبھی مکاں کی طرف ہے کبھی مکیں کی طرف کسی کا رخ ہے ازل سے مری زمیں کی طرف چراغ لالہ ہے روشن نہ سرخ روئے حنا فضائے صحن گلستاں ہے یاسمیں کی طرف مرے بدن نے بھی اس فیصلے پہ صاد کیا کہ داغ سجدہ رہے گا فقط جبیں کی طرف طیور خواب ہوں آئینے ہوں ستارے ہوں رواں دواں ہیں سبھی عرش نیلمیں کی ...

مزید پڑھیے

چراغ باقی رہا نہ اب آئنہ رہے گا

چراغ باقی رہا نہ اب آئنہ رہے گا مگر شگفت جمال کا سلسلہ رہے گا ہزار چوکس رہیں کڑی تیرگی کے داعی مرے تصور میں ایک روزن کھلا رہے گا یقین آیا ہے آج الواح سنگ پڑھ کر کہ اس نگر میں بس ایک نام خدا رہے گا یہی رہے گا اگر مری بے کسی کا عالم دعائیں بچ پائیں گی نہ دست دعا رہے گا سیاہ پڑنے ...

مزید پڑھیے

کڑی نگاہ رکھے گا وہ سیم تن مجھ پر

کڑی نگاہ رکھے گا وہ سیم تن مجھ پر کہ مہرباں ہے کسی پھول کا بدن مجھ پر میں ایک کھوئی ہوئی آگ کی تلاش میں تھا شگفت ہونے لگے ہیں مگر چمن مجھ پر پھر ایک بار وہی دھوپ اوڑھ کر نکلوں کرے گا چھاؤں اگر آج بھی گگن مجھ پر فراق و وصل حقیقت میں ایک ہوں کہ نہ ہوں کسی کے عشق میں لازم ہے حسن زن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4085 سے 5858