کوئی جب چھین لیتا ہے متاع صبر مٹی سے
کوئی جب چھین لیتا ہے متاع صبر مٹی سے تو اپنے آپ اگ آتی ہے اس کی قبر مٹی سے سجا رکھا تھا معبد کے کسی تاریک گوشے میں بنا کر ایک دست مہرباں نے ابر مٹی سے کہاں جی شاد رہتا ہے فقط کار محبت میں کہ ورثے میں ملا ہے آدمی کو جبر مٹی سے میں اس کوزے کے پانی سے کوئی شمشیر ڈھالوں گا اور اس کو ...