شاعری

کوئی جب چھین لیتا ہے متاع صبر مٹی سے

کوئی جب چھین لیتا ہے متاع صبر مٹی سے تو اپنے آپ اگ آتی ہے اس کی قبر مٹی سے سجا رکھا تھا معبد کے کسی تاریک گوشے میں بنا کر ایک دست مہرباں نے ابر مٹی سے کہاں جی شاد رہتا ہے فقط کار محبت میں کہ ورثے میں ملا ہے آدمی کو جبر مٹی سے میں اس کوزے کے پانی سے کوئی شمشیر ڈھالوں گا اور اس کو ...

مزید پڑھیے

سسک رہی ہیں تھکی ہوائیں لپٹ کے اونچے صنوبروں سے

سسک رہی ہیں تھکی ہوائیں لپٹ کے اونچے صنوبروں سے لہو کی مہکار آ رہی ہے کٹے ہوئے شام کے پروں سے عجب نہیں خاک کی اداسی بھری نگاہوں کا اذن پا کر پلٹ پڑیں ایک دن رواں پانیوں کے دھارے سمندروں سے وہ کون تھا جو کہیں بہت دور کے نگر سے پکارتا تھا وہ کیا صدا تھی کہ ایسی عجلت میں لوگ رخصت ...

مزید پڑھیے

میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا

میں اس پری کا اگر مدعا نہیں سمجھا سمجھ میں کیا نہیں آیا میں کیا نہیں سمجھا یہی بہت ہے کہ اس بار بھی میں دشمن کو برا سمجھتے ہوئے بھی برا نہیں سمجھا وہ مانتا ہے مرے اختلاف کے حق کو اسے بٹھایا ہے سر پر خدا نہیں سمجھا چراغ و آئنہ حیران کیوں نہیں ہوں گے کہ میں صباحت گل کی ادا نہیں ...

مزید پڑھیے

صبح تک جن سے بہت بیزار ہو جاتا ہوں میں

صبح تک جن سے بہت بیزار ہو جاتا ہوں میں رات ہوتے ہی انہی گلیوں میں کھو جاتا ہوں میں خواب میں گم ہوں کہ باہر کی فضا اچھی نہیں آنکھ کھلتے ہی کہیں زنجیر ہو جاتا ہوں میں کھینچ لاتی ہے اسی کوچے میں پھر آوارگی روز جس کوچے سے اپنے شہر کو جاتا ہوں میں اس اندھیرے میں چراغ خواب کی خواہش ...

مزید پڑھیے

کسی کو زہر دوں گا اور کسی کو جام دوں گا

کسی کو زہر دوں گا اور کسی کو جام دوں گا میں اپنے جاں نثاروں کو یہی انعام دوں گا اندھیرے میں دمک اٹھتے ہیں جتنے بھی ستارے اگر فرصت ملی تو میں انہیں کچھ نام دوں گا کسی تاریک مٹی پر مجھے بھی ساتھ رکھنا کہ میں تجھ کو کسی مشکل گھڑی میں کام دوں گا تھکا ہارا ہوں تنہا ہوں مگر یہ بات طے ...

مزید پڑھیے

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا مقرر ہے دیار غیب سے روزینہ میرا دم رخصت اگر میں حوصلے سے کام لیتا پلٹ کر دیکھ سکتا تھا اسے آئینہ میرا ہدف بن پائیں گی آنکھیں نہ میرے دشمنوں کی مقابل ہے خدنگ خواب کے اب سینہ میرا پڑا رہتا ہوں کنج عافیت میں سر چھپا کر گزر جاتا ہے یوں ہی ثبت اور ...

مزید پڑھیے

دن کے پیکر میں کہیں رات میں ڈھلتے ہوئے رنگ

دن کے پیکر میں کہیں رات میں ڈھلتے ہوئے رنگ جانے رکتے ہیں کہاں نیند میں چلتے ہوئے رنگ آخری شمع بجھاتے ہوئے اپنے گھر کی میں دیکھے تھے کسی طاق میں جلتے ہوئے رنگ اس پری زاد کی آنکھوں میں دکھائی دیں گے ایک ہی پل میں کئی رنگ بدلتے ہوئے رنگ سر اٹھاتے ہیں مرے ڈوبتے لہجے میں کہیں گفتگو ...

مزید پڑھیے

ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے

ایک گھر اپنے لیے تیار کرنا ہے مجھے اور اک بستی کو بھی مسمار کرنا ہے مجھے اس اندھیرے میں چھپانا ہے کوئی دشمن مگر اس اجالے میں کسی پر وار کرنا ہے مجھے ایک ندی کے کنارے پر ٹھہرنے کے لیے شام ہونے تک یہ دریا پار کرنا ہے مجھے ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے ایک غم سے بھی اسے ...

مزید پڑھیے

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں

عشق کی دسترس میں کچھ بھی نہیں جان من! میرے بس میں کچھ بھی نہیں اک تری یاد کا تسلسل ہے اور تار نفس میں کچھ بھی نہیں راز دار بہار رفتہ نہ ہو یوں تو اس خار و خس میں کچھ بھی نہیں پرورش پا رہا ہے نخل زیاں نفع کیا اس برس میں کچھ بھی نہیں آخر کار ہارنے کے سوا اختیار ہوس میں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

مرے نجم خواب کے روبرو کوئی شے نہیں مرے ڈھنگ کی

مرے نجم خواب کے روبرو کوئی شے نہیں مرے ڈھنگ کی یہ فلک ہے کشت غبار سا یہ زمیں ہے پانی کے رنگ کی کسی شام میرے جلو میں تھا کوئی خواب وسعت شہر کا کسی صبح میرے وجود پر یہ زمین لوگوں نے تنگ کی مری بے کلی کا ثبوت ہے مری شمع خواب کے سامنے کوئی گرم موج گمان کی کوئی سرد لہر امنگ کی مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4084 سے 5858