تیرے میرے خواب جدا
تیرے میرے خواب جدا خوابوں کے اسباب جدا میرے دشمن تیرے دوست دونوں کے احباب جدا تیرا میرا ساتھ ہے یوں جوں صحرا سے آب جدا لب سے ساغر کیا ملتے محفل کے آداب جدا سونا سونا دل میرا دریا سے ہے آب جدا
تیرے میرے خواب جدا خوابوں کے اسباب جدا میرے دشمن تیرے دوست دونوں کے احباب جدا تیرا میرا ساتھ ہے یوں جوں صحرا سے آب جدا لب سے ساغر کیا ملتے محفل کے آداب جدا سونا سونا دل میرا دریا سے ہے آب جدا
خنجر کو رگ جاں سے گزرنے نہیں دے گا وہ شخص مجھے چین سے مرنے نہیں دے گا پھر کوئی نئی آس وہ دے جائے گا دل کو ٹوٹے ہوئے شیشے کو بکھرنے نہیں دے گا دن ڈھلتے نکل آئے گا پھر یاد کا سورج سایہ مرے آنگن میں اترنے نہیں دے گا ہر شخص کو مہمان بنا لے گا وہ لیکن مجھ کو کبھی گھر اپنے ٹھہرنے نہیں ...
کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں کب تک اڑے گا زخمی پرندہ ہواؤں میں شہروں کی بھیڑ نے تو بصارت ہی چھین لی تصویر اپنی دیکھیں گے چل کر گپھاؤں میں فکروں کے دائروں سے نکلنا محال ہے جاؤ بساؤ شوق سے دنیا خلاؤں میں ایسی گھٹن تو پہلے کبھی بھی نہ تھی یہاں یہ کس نے زہر گھول دیا ہے ہواؤں ...
سر پر ہے سائبان نہ تن پر لباس ہے اک سکۂ خلوص ہی لے دے کے پاس ہے جائیں بھی اپنے زخم لیے کس کے پاس ہم مرہم منافقت کا یاں سب کے پاس ہے نفرت کی آگ پھیلنے پائے نہ دوستو بارود ہے کہیں تو کہیں پر کپاس ہے دیدہ وری کے زعم میں سب محو خواب ہیں شاید یہی سبب ہے کہ نرگس اداس ہے آتا نہیں یقین کہ ...
جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا ممکن نہیں تھا دوستو اپنا محاصرہ درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا دریائے حادثات کی موجیں شدید تھیں آواز میں نے دی تھی مگر وہ ...
دلوں میں رنجشیں ہیں یہ کس کی سازشیں ہیں میں پھر بھی ڈر رہا ہوں خبر ہے بخششیں ہیں اگر دل آئنہ ہو بہت گنجائشیں ہیں بڑھی جاتی ہے سوزش یہ کیسی بارشیں ہیں فلک کیا چاہتا ہے مسلسل گردشیں ہیں
جتنی سچی مری کہانی ہے سب کو اتنی ہی بد گمانی ہے لاپتہ ہے بہار برسوں سے معتبر پھر بھی باغبانی ہے آگ کھلنے لگی ہے شاخوں پر جانے یہ کس کی گل فشانی ہے سارے کردار اس کے زخمی ہیں عہد نو کی عجب کہانی ہے ظلم آزاد بے گناہی قید خوب انداز حکمرانی ہے
ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح اجالا غیروں سے کیا مانگتے قمر کی طرح کہاں کے جیب و گریباں جگر بھی چاک ہوئے بہار آئی قیامت کے نامہ بر کی طرح کرم کہو کہ ستم دل دہی کا ہر انداز اتر اتر سا گیا دل میں نیشتر کی طرح نہ حادثوں کی کمی ہے نہ شورشوں کی کمی چمن میں برق بھی پلتی ہے بال و پر کی ...
ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت دل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت ہائے کیا چیز ہے محرومی و غم کا رشتہ مل گئے زیست کے ہر موڑ پہ غم خوار بہت یاد احباب کی خوشبو سے مہکتی شامیں کچھ کہو ہوتی ہیں کمبخت دل آزار بہت عشق آوارہ کہاں قید در و بام کہاں بے نواؤں کے لیے سایۂ دیوار بہت دل ...
داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرف بے گناہی کے سوا کون تھا بسمل کی طرف منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف مقتل ناز سے گزرے تو گزرنے والے پھول کچھ پھینک گئے دامن قاتل کی طرف جھلملاتے نہیں بے وجہ تو محفل کے چراغ اک نظر دیکھ تو لو صاحب محفل ...