شاعری

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے بہار آئی تو گلشن میں دام بھی آئے ہمیں نہ کر سکے تجدید آرزو ورنہ ہزار بار کسی کے پیام بھی آئے چلا نہ کام اگرچہ بہ زعم راہبری جناب خضر علیہ السلام بھی آئے جو تشنہ کام ازل تھے وہ تشنہ کام رہے ہزار دور میں مینا و جام بھی آئے بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا ...

مزید پڑھیے

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے گرد کی میلی سی چادر اوڑھ کے سو جائے ہے قربتیں ہی قربتیں ہیں دوریاں ہی دوریاں آرزو جادو کے صحرا میں مجھے دوڑائے ہے وقت کے ہاتھوں ضمیر شہر بھی مارا گیا رفتہ رفتہ موج خوں سر سے گزرتی جائے ہے میری آشفتہ سری وجہ شناسائی ہوئی مجھ سے ملنے روز کوئی ...

مزید پڑھیے

ایک دور

چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخن اور جنگل سے گزرتے ہوئے معصوم مسافر اپنے چہروں کو کھرونچوں سے بچانے کے لیے چیخ پڑے تھے چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اتر آئے تھے شاخوں سے لٹکتے ہوئے آسیب تھے ...

مزید پڑھیے

نظم

نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا بس ترا نام ہی مکمل ہے اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!

مزید پڑھیے

امیجز

میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھا جہاں پردے پہ اک فلم کے کردار زندہ جاوید نظر آتے تھے ان کی ہر بات بڑی، سوچ بڑی، کرم بڑے ان کا ہر ایک عمل ایک تمثیل تھی بس دیکھنے والوں کے لئے میں اداکار تھا اس میں تم اداکارہ تھیں اپنے محبوب کا جب ہاتھ پکڑ کر تم نے زندگی ایک نظر میں بھر کے اس کے سینے پہ بس ...

مزید پڑھیے

خدا

پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے! کالے گھر میں سورج رکھ کے تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے میں نے ایک چراغ جلا کر اپنا رستہ کھول لیا تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا میں نے کال ...

مزید پڑھیے

ایک اور رات

رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہے رات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیں کانچ کا نیلا سا گنبد ہے اڑا جاتا ہے خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے اور سناٹوں کی اک دھول اڑی جاتی ہے کاش اک بار کبھی نیند سے اٹھ ...

مزید پڑھیے

دیر آمد

آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شاید ایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کا چار اعشاریہ بلین سالوں کی عمر تو بیت چکی ہے کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں اور اب مل کر کس دنیا کی دنیا داری سوچ رہی ہو کس مذہب اور ذات اور پات کی فکر لگی ہے آؤ چلیں اب تین ہی بلین سال بچے ہیں

مزید پڑھیے

پومپیئے

پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاں ایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاں شہر کھودا تو تواریخ کے ٹکڑے نکلے ڈھیروں پتھرائے ہوئے وقت کے صفحوں کو الٹ کر دیکھا ایک بھولی ہوئی تہذیب کے پرزے سے بچھے تھے ہر سو منجمد لاوے میں اکڑے ہوئے انسانوں کے گچھے تھے وہاں آگ اور لاوے سے گھبرا کے جو لپٹے ہوں گے وہی ...

مزید پڑھیے

کرچیں

ٹکڑا اک نظم کا دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا

مزید پڑھیے
صفحہ 4071 سے 5858