جلوہ پابند نظر بھی ہے نظر ساز بھی ہے
جلوہ پابند نظر بھی ہے نظر ساز بھی ہے پردۂ راز بھی ہے پردہ در راز بھی ہے ہم نفس آگ نہ لگ جائے کہیں محفل میں شعلۂ ساز بھی ہے شعلۂ آواز بھی ہے یوں بھی ہوتا ہے مداوائے غم محرومی جبر صیاد بھی ہے حسرت پرواز بھی ہے میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے میری آواز میں شامل تری آواز بھی ...