شاعری

نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ

نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ عاشقو لوٹنے کی جا ہے یہ شب وصل صنم ولا ہے یہ بوسے ہونٹوں کی لے مزا ہے یہ دل کو کیوں پائمال کرتے ہو نہ تو سبزہ ہی نہ حنا ہے یہ کاٹ کر سر لگائیے ٹھوکر قتل عاشق کا خوں بہا ہے یہ دود دل کیوں نہ رشک سنبل ہو آتش حسن سے جلا ہے یہ زلف میں کیوں نہ دل رہے ...

مزید پڑھیے

کیا ہیں شیدائے قد یار درخت

کیا ہیں شیدائے قد یار درخت ہیں جو شبنم سے اشک بار درخت دیکھیں گر سرو قد یار درخت خاک پر لوٹیں سایہ دار درخت اشک بار ان پہ ہیں جو مرغ چمن پہنے ہیں موتیوں کا ہار درخت سرکشی کی ہے کیا ترے قد سے کاٹے جاتے ہیں بے شمار درخت کیا ترے قد سے دوں مثال اسے کہ ہے انگشت زینہار درخت ترے جلوے ...

مزید پڑھیے

کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر

کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر چھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پر کیا ہی افشاں ہے جبین و ابروئے خم دار پر ہے چراغاں آج کعبے کے در و دیوار پر نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر چشم بد دور آج ہے یہ کون گل رو جھانکتا چشم نرگس کا ہے عالم روزن ...

مزید پڑھیے

الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی

الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی دل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کی جانے وہ کیا کسی کی جی کی جس کو الفت نہ ہو کسی کی خواہش نہ بر آئی اپنی جی کی ہم نے کس کس کی دوستی کی اچھی نہیں شرح عاشقی کی پوچھو نہ اجی کسی کی جی کی یہ روئے کہ نامہ بہہ کے پہنچا اشکوں نے ہمارے قاصدی کی سرخی مگر اس کے لب کی ...

مزید پڑھیے

بظاہر دیکھتے ہیں تو زیادہ کام کرتا ہوں

بظاہر دیکھتے ہیں تو زیادہ کام کرتا ہوں مگر حق بات کچھ یوں ہے کہ تھوڑا کام کرتا ہوں اب آگے خود سمجھ جاؤ میں کیسا کام کرتا ہوں جو کوئی بھی نہیں کرتا ہے ویسا کام کرتا ہوں محبت میں مجھے باتیں بنانا تو نہیں آتا کبھی موقع ملے مجھ کو تو سیدھا کام کرتا ہوں کرانا چاہتا ہوں اس طرح اپنا ...

مزید پڑھیے

تیرے کہنے پہ ہی رکوں گا میں

تیرے کہنے پہ ہی رکوں گا میں ورنہ پھر اپنی راہ لوں گا میں دیکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہے سب باقی چکھ کر ہی کچھ کہوں گا میں جو کسی نے نہیں کیا اب تک کام ایسا کوئی کروں گا میں چھوڑ کر ایسا جاؤں گا کہ تمہیں خواب میں بھی نہیں ملوں گا میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنا ویسے کا ویسا ہی دکھوں گا ...

مزید پڑھیے

تفصیل بتانے سے کنارہ ہی کیا ہے

تفصیل بتانے سے کنارہ ہی کیا ہے کیا چاہتا ہوں اس کو اشارہ ہی کیا ہے مشکل تھا اگر کوئی تو وہ بیچ میں چھوڑا آسان ملا مجھ کو تو سارا ہی کیا ہے اس کا متبادل بھی اسی طرح کا ڈھونڈا یعنی کہ خسارے پہ خسارہ ہی کیا ہے جب ایک دفعہ سے نہ ہوئی اتنی تشفی پھر سارے کے سارے کو دوبارہ ہی کیا ...

مزید پڑھیے

ہمدردی کی ذرا بھی ضرورت نہیں مجھے

ہمدردی کی ذرا بھی ضرورت نہیں مجھے احساں کوئی اٹھانے کی عادت نہیں مجھے ہاں لالچی ہوں اور زیادہ کی ہے ہوس اتنے قلیل پر تو قناعت نہیں مجھے درکار تھی جو چیز وہ نا پید ہو چکی وافر وہی ہے جس کی ضرورت نہیں مجھے سب کچھ بگاڑ کے ہی نہ رکھ دوں کسے خبر اس کام میں ذرا بھی مہارت نہیں مجھے وہ ...

مزید پڑھیے

کبھی خاموش رہ کر بھی پکارا کافی ہوتا ہے

کبھی خاموش رہ کر بھی پکارا کافی ہوتا ہے سمجھنے والوں کو تو بس اشارہ کافی ہوتا ہے اضافہ اس میں کر لیتا ہوں میں اپنی طرف سے بھی یہاں بس دیکھ لینا ہی تمہارا کافی ہوتا ہے کبھی تو فائدہ بھی دینے لگ جائے گا وہ مجھ کو کہ پہلے پہلے ویسے بھی خسارہ کافی ہوتا ہے یہ ایسی مار ہے جس کا نشاں ...

مزید پڑھیے

عشق عہد بے وفا میں بے نوا ہو جائے گا

عشق عہد بے وفا میں بے نوا ہو جائے گا آنکھ استنبول سینہ قرطبہ ہو جائے گا رات لمبی ہے تو باہم گفتگو کرتے رہو بات چل نکلی تو بہتوں کا بھلا ہو جائے گا ان بھری گلیوں میں پھرتا رہ اسی میں خیر ہے اپنے اندر جا چھپا تو لاپتا ہو جائے گا سر بریدہ لفظ مجھ سے رات یہ کہنے لگے اب نہ بولو گے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4057 سے 5858