شاعری

گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک

گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک وفا کی سلطنت اقلیم وعدہ سر زمین دل نظر کی زد میں ہے خوابوں سے تعبیروں کے کشور تک کہیں بھی سرنگوں ہوتا نہیں اخلاص کا پرچم جدائی کے جزیرے سے محبت کے سمندر تک محبت اے محبت ایک جذبے کی مسافت ہے مرے آوارہ ...

مزید پڑھیے

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو ہر پتا نا آسودہ ہے ماحول چمن آلودہ ہے رہ جائیں لرزتی شاخوں پر دو چار گلاب تو اچھا ہو یوں شور کا دریا بپھرا ہے چڑیوں نے چہکنا چھوڑ دیا خطرے کے نشان سے نیچے اب اترے سیلاب تو اچھا ہو ہر ...

مزید پڑھیے

تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی

تکلم جو کوئی کرتا ہے فانی ہماری اور تمہاری ہے کہانی جنوں میں یاد ہے اک بیت ابرو کہاں ہے اب دماغ شعر خوانی مآل عاشق و معشوق ہے ایک سنا ہے شمع سوزاں کی زبانی نشاں ہم بے نشانوں کا نہ پایا صبا نے مدتوں تک خاک چھانی وہ عاشق ہوں نہ آئے نیند مجھ کو سنوں جب تک نہ یوسف کی کہانی نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر عضو چشم بینا ہے

اپنا ہر عضو چشم بینا ہے اس قدر انتظار تیرا ہے جو ہے محبوب تیرا شیدا ہے یوسف آگے تری زلیخا ہے ایک مہ رو بغل میں سوتا ہے آسماں پر دماغ اپنا ہے خاک میں جو ملا دیا مجھ کو آسماں نے زمیں کو سونپا ہے کس نے چہرے سے بال سرکائے شام کو صبح آشکارا ہے استخواں تک کبھی گزر نہ کیا میرے حق میں ...

مزید پڑھیے

تم وفا کا عوض جفا سمجھے

تم وفا کا عوض جفا سمجھے اے بتو تم سے بس خدا سمجھے پان کھا کر جو آئے مقتل میں کیا شہیدوں کا خون بہا سمجھے سر قلم کرنے کا تھا خط میں جو حال اس کا مضمون ہم جدا سمجھے کب وہ تلووں سے آنکھیں ملنے دے جو کہ مژگاں کو خار پا سمجھے ہو گیا جب قلم ہمارا سر اپنی قسمت کا تب لکھا سمجھے دوڑے کیا ...

مزید پڑھیے

کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں

کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں کیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میں چاہا بہت ولی نہ موا ہجر یار میں محبوب کیا اجل بھی نہیں اختیار میں موباف سرخ کیوں نہ ہو گیسوئے یار میں شبخون یعنی لاتے ہیں شبہائے تار میں موباف ہے کنارے کا زلف نگار میں یا برف کوندتی ہے یہ ابر بہار ...

مزید پڑھیے

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے بار سر سے بھی سرگرانی ہے چشم تر سے جو خوں فشانی ہے ناوک عشق کی نشانی ہے سارے قرآن سے اس پری رو کو یاد اک لفظ لن ترانی ہے جب ہوا رتبۂ فنا فی اللہ غم نہیں گر جہان فانی ہے ہے ہر اک شعر یار کی تصویر فکر اپنی خیال مانی ہے کیوں نہ ہوں عاشق لب جاناں چشمۂ آب ...

مزید پڑھیے

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے یہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہے جو پہنچے ہاتھ زنجیروں کو توڑیں گرچہ پاؤں اپنا درمیاں ہے چمک لعل بدخشاں کی مٹا دے ترے ہونٹوں پہ ایسا رنگ پاں ہے تجھے کہتا ہوں سن او وحشت دل وہاں لے چل جہاں وہ دل ستاں ہے وہ ہوں نازک مزاج اے ہم صفیرو رگ گل مجھ کو خار آشیاں ...

مزید پڑھیے

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے آج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہے زلف کو دست حنائی سے جو چھوتا ہے وہ شوخ تو گرفتار وہیں درد حنا ہوتا ہے تھا گرفتار شب و روز نگہبانی میں ہم جو اب چھوٹیں ہیں صیاد رہا ہوتا ہے پھر بہار آتی ہے اے خار بیاباں خوش ہو آج کل پھر گزر آبلہ پا ہوتا ہے مر گئے ...

مزید پڑھیے

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں اک پردہ نشیں کا مبتلا ہوں کیا ہجر میں ناتواں ہوا ہوں تنکا نہ اٹھے وہ کہربا ہوں تیری سی نہ بو کسی میں پائی سارے پھولوں کو سونگھتا ہوں بلبل ہے چمن میں ایک ہم درد میں بھی کسی گل کا مبتلا ہوں آئینہ ہے جسم صاف اس کا کیونکر نہ کہے میں خود نما ہوں کہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4056 سے 5858