کس ناز سے واہ ہم کو مارا
کس ناز سے واہ ہم کو مارا کی ترچھی نگاہ ہم کو مارا سو پیچ میں لا کے آخر کار اے زلف سیاہ ہم کو مارا خواہندہ ترے تھے اے پری ہم کیوں خواہ نہ خواہ ہم کو مارا کعبے کو جو ہم چلے بتوں نے کہہ کر گمراہ ہم کو مارا شکوہ ہمیں کچھ نہیں فلک سے تو نے اے ماہ ہم کو مارا چاہ زقن صنم دکھا کر تو نے اے ...