شاعری

کس ناز سے واہ ہم کو مارا

کس ناز سے واہ ہم کو مارا کی ترچھی نگاہ ہم کو مارا سو پیچ میں لا کے آخر کار اے زلف سیاہ ہم کو مارا خواہندہ ترے تھے اے پری ہم کیوں خواہ نہ خواہ ہم کو مارا کعبے کو جو ہم چلے بتوں نے کہہ کر گمراہ ہم کو مارا شکوہ ہمیں کچھ نہیں فلک سے تو نے اے ماہ ہم کو مارا چاہ زقن صنم دکھا کر تو نے اے ...

مزید پڑھیے

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر کروں میں سجدہ بتوں کے ...

مزید پڑھیے

قتل عشاق کیا کرتے ہیں

قتل عشاق کیا کرتے ہیں بت کہاں خوف خدا کرتے ہیں سر مرا تن سے جدا کرتے ہیں درد کی آپ دوا کرتے ہیں آتش غم نے مگر پھونک دیا دل سے شعلے جو اٹھا کرتے ہیں جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں خون روتے ہیں چمن میں بلبل ہم گلوں سے جو ہنسا کرتے ہیں خم ابروئے صنم کو دیکھیں ہم ...

مزید پڑھیے

نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے

نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے یہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہے خدا کو بھول گیا محو خود پرستی ہے تو اور کام میں ہے موت تجھ پہ ہستی ہے نہ گل ہیں اب نہ وہ ساقی نہ مے پرستی ہے چمن میں مینہ کے عوض بے کسی برستی ہے یہ ملک حسن بھی جاناں عجیب بستی ہے کہ دل سی چیز یہاں کوڑیوں سے سستی ہے مہ ...

مزید پڑھیے

ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا

ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا ہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگا ساقیا ہجر میں مے خانہ بیاباں ہوگا دور ساغر بھی رم چشم غزالاں ہوگا اے جنوں پھر مجھے خوش آنے لگی عریانی اب نہ دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا پھر چلیں گے ترا قد دیکھ کے گلزاروں میں پھر ہر اک سرو و سمن سرو ...

مزید پڑھیے

یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے

یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے نظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہے یہ کس مست کے آنے کی آرزو ہے کہ دست دعا آج دست سبو ہے نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے مکدر نہ ہو یار تو صاف کہہ دوں نہ کیونکر ہو خودبیں کہ آئینہ رو ہے کبھی رخ کی باتیں کبھی گیسوؤں کی سحر سے یہی ...

مزید پڑھیے

اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے

اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے میرے دل کو دکھا دیا کس نے دام کاکل دکھا دیا کس نے مرغ دل کو پھنسا دیا کس نے خم ابرو دکھا دیا کس نے کعبۂ دل گرا دیا کس نے اے فلک ہم تو بیٹھے ہنستے تھے اٹھتے اٹھتے رلا دیا کس نے آئنے میں دکھا کے تیری شکل تجھ کو حیراں بنا دیا کس نے اک قلم حرف دوستی ...

مزید پڑھیے

دل کے دامن میں جو سرمایۂ افکار نہ تھا

دل کے دامن میں جو سرمایۂ افکار نہ تھا زندگی تھی مگر اس کا کوئی معیار نہ تھا جانے کیوں بات مری ان کو گراں بار ہوئی لفظ ایسا تو کوئی شامل گفتار نہ تھا کون سنتا مری کس کو میں صدائیں دیتا ایسی غفلت تھی کہ احساس بھی بیدار نہ تھا ہر طرف دھوپ تھی پھیلی ہوئی عریانی کی سر چھپانے کو کہیں ...

مزید پڑھیے

وقار دے کے کبھی بے وقار مت کرنا

وقار دے کے کبھی بے وقار مت کرنا ہمیں خدا کے لئے شرمسار مت کرنا نکلنا جب کبھی لے کر چراغ بستی میں اندھیرے گھر بھی ملیں گے شمار مت کرنا اسی کا آج بھی ہم انتظار کرتے ہیں جو کہہ گیا تھا مرا انتظار مت کرنا یہ مانا آج زمانہ ہے بے وفائی کا مگر تم ایسا چلن اختیار مت کرنا سفر کے مارے ...

مزید پڑھیے

درد دل کے ساتھ کیا میرے مسیحا کر دیا

درد دل کے ساتھ کیا میرے مسیحا کر دیا بے قراری بڑھ گئی ہے جب سے اچھا کر دیا کیا عجب تھی ان کے پاکیزہ تبسم کی کرن قلب کی تاریک بستی میں اجالا کر دیا جب نہ ان کے راز وحشت تک پہنچ پائی نظر ہوش والوں نے جنوں والوں کو رسوا کر دیا نفرتوں کی حد بنا کر اپنے میرے درمیاں وہ بھی تنہا رہ گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4058 سے 5858