کہف القحط
پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تک اپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والی سر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائے آج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماں ایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہے اس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنے کھلونوں سے ...