شاعری

کہف القحط

پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تک اپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والی سر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائے آج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماں ایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہے اس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنے کھلونوں سے ...

مزید پڑھیے

اونچے درجے کا سیلاب

زمیں کا حسن سبزہ ہے مگر اب سبز پتے زرد ہو کر جھڑتے جاتے ہیں بہاریں دیر سے آتی ہیں جگنو ہے نہ تتلی ۔۔۔خوشبوؤں سے رنگ روٹھے ہیں جہاں جنگل ہوا کرتے تھے اور بارش دھنک لے کر اترتی تھی جہاں برسات میں کوئل، پپیہے چہچہاتے تھے وہاں اب خاک اڑتی ہے درختوں کی کمی سے آ گئی ہے دھوپ میں شدت فضا ...

مزید پڑھیے

تضاد

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ پہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن ...

مزید پڑھیے

نادان کچھ نہیں ہے ترے اختیار میں

نادان کچھ نہیں ہے ترے اختیار میں ہر چیز تو ہے قبضۂ پروردگار میں اس دور میں وفا کی حقیقت میں کیا کہوں جیسے سراب آئے نظر ریگزار میں ہے وقت کا تقاضا رہیں اتفاق سے افسوس مبتلا ہوئے ہم انتشار میں دشمن پہ وقت آئے تو میں انتقام لوں شامل نہیں ہے دوستو میرے شعار میں اہل چمن تو شاد ہیں ...

مزید پڑھیے

خدا کے واسطے اک بار تو چلے آؤ (ردیف .. ی)

خدا کے واسطے اک بار تو چلے آؤ تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہا ہے کوئی میں جام کیسے اٹھاؤں بھلا اے بادہ کشو نگاہ ناز سے مجھ کو پلا رہا ہے کوئی گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں حقیقت میں کسی کی یاد میں آنسو بہا رہا ہے کوئی چلو وہیں پہ ابھی جا کے ہم بھی بس جائیں سنا ہے پیار کی دنیا بسا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

بیتے دن جب بھی یاد آتے ہیں

بیتے دن جب بھی یاد آتے ہیں اشک پلکوں پہ جھلملاتے ہیں تیری یادوں کے چاند تاروں سے شب فرقت کو ہم سجاتے ہیں حال فصل بہار مت پوچھو پھول کانٹوں میں منہ چھپاتے ہیں تم جو کہتے ہو صرف کہتے ہو ہم جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں ہم کہ فتنہ فساد کی باتیں جہاں سنتے ہیں بھول جاتے ہیں وہی تقسیم ...

مزید پڑھیے

اشک پینا پڑا غم چھپانا پڑا

اشک پینا پڑا غم چھپانا پڑا تم سے مل کر ہمیں مسکرانا پڑا ہو کے نادم وہ ملنے کو جب آ گئے سارا شکوہ گلہ بھول جانا پڑا آ کے دہلیز پر مجھ سے خوددار کی مال و زر کو ترے سر جھکانا پڑا جھک گئے سر سبھی کے تو آخر مجھے پیش تیغ ستم سر اٹھانا پڑا کھیل دل کا بھی زخمیؔ عجب کھیل ہے جیت کر بھی ...

مزید پڑھیے

یارب یہ کیسا آج کا انسان ہو گیا

یارب یہ کیسا آج کا انسان ہو گیا تخلیق کر کے تو بھی پشیمان ہو گیا موسم بہار کا تھا خزاں جلد آ گئی ہنستا ہوا چمن مرا ویران ہو گیا لوٹا ہے جس نے شہر کے صبر و قرار کو وہ شخص میرے شہر کا پردھان ہو گیا ایسے نئے چلن کی چلیں آندھیاں یہاں انسان اپنی ذات میں حیوان ہو گیا چاہا تھا میں نے ...

مزید پڑھیے

ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو

ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دو میں زندگی کی کڑی دھوپ میں اکیلا ہوں فریب ابر مرے آس پاس رہنے دو اذیتیں ہی محبت کی روح ہوتی ہیں مرے وجود میں اتنی سی آس رہنے دو کوئی کرن مری امید کی نہیں باقی مرے خیالوں میں تصویر یاس رہنے دو ہماری پیاس کبھی تو ...

مزید پڑھیے

پرندے ہم کو پیڑوں پر دکھائی کیوں نہیں دیتے

پرندے ہم کو پیڑوں پر دکھائی کیوں نہیں دیتے کسی بھی شاخ پر اب گھر دکھائی کیوں نہیں دیتے نہ تتلی ہے نہ شبنم ہے نہ کلیاں ہیں نہ غنچے ہیں بہاروں کے بھلا منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے ستارے سو رہے ہیں آسماں کو گود میں تھک کر مجھے اب چاند کے منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے جہاں امن و اماں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4050 سے 5858