یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں
یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں کبھی خود میں تجھے دیکھوں کبھی تجھ میں خدا دیکھوں غرض خود سے نہیں کوئی نہ چاہت ہے زمانے کی کہاں ہستی مری پھر جو تجھے خود سے جدا دیکھوں محبت کی نظر میں یار لکھی ہو محبت بس کبھی دیکھوں میں خود کو تو کبھی اس کی وفا دیکھوں نئی منزل ...