ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو
ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو
زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دو
میں زندگی کی کڑی دھوپ میں اکیلا ہوں
فریب ابر مرے آس پاس رہنے دو
اذیتیں ہی محبت کی روح ہوتی ہیں
مرے وجود میں اتنی سی آس رہنے دو
کوئی کرن مری امید کی نہیں باقی
مرے خیالوں میں تصویر یاس رہنے دو
ہماری پیاس کبھی تو کوئی بجھائے گا
لرزتے ہاتھوں میں خالی گلاس رہنے دو
میں ایک گلشن بے رنگ ہوں خدا کے لیے
مری فضا میں امیدوں کی باس رہنے دو