شاعری

زیست کا خالی کٹورا آپ ہی بھر جائے گا

زیست کا خالی کٹورا آپ ہی بھر جائے گا اپنے ہی جیسا کسی دن وہ مجھے کر جائے گا شہر میں کوئی نہ رہ پائے گا بے نام و نشاں جس طرف شیشے کی یورش ہوگی پتھر جائے گا ندیاں اب بھاگتی پھرتی ہیں صحرا کی طرف اب تو دریا کے تعاقب میں سمندر جائے گا کھو چکے ہیں لوگ اپنے اپنے چہروں کا وقار جو بھی ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے جینے کی دعا دی ہے

پھر مجھے جینے کی دعا دی ہے یعنی پھر اک حسیں سزا دی ہے ظلم سہہ کر بھی ہم نے ظالم کے ہاتھ چومے ہیں اور دعا دی ہے کیوں گلہ ہو کہ ہم کو قدرت نے یہ کسی جرم کی سزا دی ہے شکریہ تو نے ایک ٹھوکر سے روح خوابیدہ اک جگا دی ہے حسن کو کیا خبر کہ خود اس نے شعلۂ عشق کو ہوا دی ہے موسم گل نے آ کے ...

مزید پڑھیے

تڑپ تو آج بھی کچھ کم نہیں ہے

تڑپ تو آج بھی کچھ کم نہیں ہے مگر یہ چشم اب پر نم نہیں ہے ہوئے جب فرط غم سے خشک آنسو وہ یہ سمجھے کہ مجھ کو غم نہیں ہے دھواں سا اک اٹھا کرتا ہے دل میں تری یاد آہ اب بھی کم نہیں ہے وہ راہیں بھی کوئی راہیں ہیں یارو کہ جن میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے رواں ہوں یوں تو اب بھی سوئے منزل قدم ...

مزید پڑھیے

بات کچھ بھی نہ تھی فسانہ ہوا

بات کچھ بھی نہ تھی فسانہ ہوا میری رسوائی کا بہانہ ہوا تھی یہ خواہش کہیں گے سب کچھ ہم ان کے آگے تو لب بھی وا نہ ہوا روز آتی ہے اک نئی آفت دل مرا جب سے عاشقانہ ہوا کیوں تڑپتا ہے پھر دل مضطر کس بلا کا یہ پھر نشانہ ہوا تو نے چھوڑا ہے ساتھ جب سے ندیم ہائے دشمن مرا زمانہ ہوا مر ہی ...

مزید پڑھیے

مری آہ و فغاں کچھ بھی نہیں ہے

مری آہ و فغاں کچھ بھی نہیں ہے جلے دل کا دھواں کچھ بھی نہیں ہے نہ تڑپایا کسی ظالم کو اس نے مری طرز بیاں کچھ بھی نہیں ہے جہاں ہو بجلیوں کا خوف پیہم سکون آشیاں کچھ بھی نہیں ہے ہر اک شے بن گئی شیشہ کی مانند اب اپنے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے خدا گو ذرہ ذرہ سے عیاں ہے مگر ذرہ یہاں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

جب ملی ان سے نظر مٹنے کا ساماں ہو گیا

جب ملی ان سے نظر مٹنے کا ساماں ہو گیا اے قضا خوش ہو ترا اب کام آساں ہو گیا دل ربا معلوم ہوتی ہیں مجھے تنہائیاں نقش ہر شے کا مجھے تصویر جاناں ہو گیا میری خواہش تھی کہ لوٹوں لذت دنیا مگر وسعت حرص و ہوا سے تنگ داماں ہو گیا بڑھ رہی ہیں قیمتیں ہر چیز کی بازار میں ایک ایسا غم ہے جو اب ...

مزید پڑھیے

کاش مجھ سے بھی روشنی نکلے

کاش مجھ سے بھی روشنی نکلے میرے دامن سے کچھ کمی نکلے عاشقی ہو یا بندگی کے پل اپنے لہجے سے شاعری نکلے یوں بھی ہوتا ہے درد کی حد میں زرد آنکھوں سے کچھ نمی نکلے بات کچھ تلخ ہو یا میٹھی سی اس زباں سے سہی سہی نکلے سامنے آپ ہوں یہی خواہش جسم سے جان جب کبھی نکلے صرف مسکان دل تلک ...

مزید پڑھیے

جدھر دیکھتا ہوں نظارہ ترا ہے

جدھر دیکھتا ہوں نظارہ ترا ہے اثر بندگی کا ہے یا معجزہ ہے ورق زندگی کے پلٹتے ہیں جب جب میں حیرت سے دیکھوں کہ کیا کیا لکھا ہے یہ موجیں یہ ساحل یہ کشتی یہ دریا نہ جانے کہاں ناخدا لاپتہ ہے وہی موڑ ہیں اور وہی رہ گزر بھی غضب یہ ہے کہ ہر مسافر نیا ہے لگاتے رہو لاکھ چہرے پہ چہرے مگر ...

مزید پڑھیے

یہ محبت بھی اک سزا تو ہے

یہ محبت بھی اک سزا تو ہے دل معصوم کی خطا تو ہے شکر ہے گھر میں آئینہ تو ہے گفتگو کے لئے خلا تو ہے عشق کے آسماں پہ جا پہنچا لگ گئی ہے اسے ہوا تو ہے زخم مل بھی گئے تو کیا غم ہے تیرا ہونا بھی اک دوا تو ہے جب لبوں پر ہنسی نمایاں ہو سمجھو پیچھے کوئی دعا تو ہے فاصلے یوں نہیں ہوا ...

مزید پڑھیے

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا ہے مے کشی میں ہوش بھی بتلائیے ذرا یوں پڑھ رکھے ہیں ہم نے تو کتنے ہی فیصلے دل کی عبارتوں کو بھی پڑھوائیے ذرا مجھ سا نہیں ملے گا تمہیں یار پھر کہیں چاہیں تو گھوم کر یہ جہاں آئیے ذرا اچھی نہیں ہے بے رخی مجھ سے یوں آپ کی آ کر قریب سے ہی گزر جائیے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4048 سے 5858