پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا
ہے مے کشی میں ہوش بھی بتلائیے ذرا


یوں پڑھ رکھے ہیں ہم نے تو کتنے ہی فیصلے
دل کی عبارتوں کو بھی پڑھوائیے ذرا


مجھ سا نہیں ملے گا تمہیں یار پھر کہیں
چاہیں تو گھوم کر یہ جہاں آئیے ذرا


اچھی نہیں ہے بے رخی مجھ سے یوں آپ کی
آ کر قریب سے ہی گزر جائیے ذرا


ہوتا کبھی حبیب جو بنتا رقیب ہے
قسمت کے رنگ دیکھتے رہ جائیے ذرا


باہر بہت ہی گرد ہے دھوکے فریب کی
یوں پیرہن بدل کے ہی گھر آئیے ذرا


بیڑی بنے ہیں کچھ تو یہاں رسم اور رواج
یوں گیتؔ کو قفس سے نکلوائیے ذرا